خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 192
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۲ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار روپے رکھی جائے تو یہ دولاکھ دس ہزار روپیہ کا کام بنتا ہے۔اگر ان کی مزدوری ( ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز مزدور ہی۔دنیا کے مزدور نہیں جیسے دنیا کے ٹھیکیداروں کے مزدور ہوتے ہیں ) چھ روپیہ روزانہ بھی جائے تو یہ کام چار لاکھ بیس ہزار روپیہ کا بنتا ہے۔پھر یہ لوگ اپنی جگہوں پر تو مقررنہیں کئے جاتے دوسری جگہوں پر بھجوائے جاتے ہیں اس لئے انہوں نے آنے جانے کا کرایہ بھی اپنے پاس سے خرچ کیا ہے اگر کرایہ کی اوسط میں روپیہ فی واقف رکھی جائے تو ایک لاکھ روپیہ کا یہ خرچ ہے گویا آپ یہ کہہ لیں کہ پانچ لاکھ میں ہزار روپیہ کا خرچ ہے یا یوں کہہ دیں کہ پانچ لاکھ بیس ہزار روپیہ کی آمد واقفین کے ذریعہ جماعت کو ہوئی یا اتنے روپے کا کام کم از کم انہوں نے کیا۔یہ جو رضا کارانہ خدمت ہے اس کے متعلق بھی میں کل انشاء اللہ بعض اصولی باتیں بیان کروں گا۔اس کے علاوہ اس وقت بارہ سو چھہتر (۱۲۷۶) واقفین عارضی ایسے ہیں جنہوں نے آئندہ سال میں کسی وقت اپنے دو ہفتے دیئے ہیں لیکن پچھلے سال میں نے کہا تھا کہ کم از کم پانچ ہزار واقفین کی ضرورت ہے لیکن سال کے دوران جو نئی ضرورتیں سامنے آئی ہیں یا جماعتوں کے جو نئے مطالبات ہم تک پہنچے ہیں ان کے نتیجہ میں میں سمجھتا ہوں کہ پانچ ہزار نہیں دس ہزار واقفین عارضی کی ضرورت ہے اگر دس ہزار واقفین کی تعداد فرض کی جائے تو اس تعداد تک پہنچنے میں دوست سال دو سال لیں گے۔اس لئے آئندہ سال کم از کم سات ہزار واقف چاہئیں۔بارہ سو کے نام بھجوائے گئے ہیں اور باقی پانچ ہزار آٹھ سو (۵۸۰۰) اور دوست آگے آنے چاہئیں جو وقف عارضی میں اپنے نام دیں۔واقفین عارضی نے بڑی کثرت کے ساتھ اس بات کو محسوس کیا ہے کہ وقف عارضی میں کم از کم دو ہفتے وقف کرنے کی جو سکیم ہے وہ ان کی اپنی تربیت اور اپنی اخلاقی ترقی میں بہت مفید ثابت ہوئی ہے اور اس سے انہوں نے بڑا فائدہ اٹھایا ہے اور ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اپنے پر نازل ہوتے دیکھا ہے اس بارے میں ہمیں بڑی کثرت سے خطوط پہنچے ہیں۔اس سکیم کے ماتحت ایک تو قرآن کریم کے پڑھانے کی سکیم کو چلایا جاتا ہے اور زندہ رکھا جاتا ہے قرآن کریم نے کہا ہے ذکر یعنی بعض اوقات یاد دہانی کراتے رہا کرو اور یاد دہانی کرانے کے لئے ذرائع کی ضرورت ہے اور واقفین عارضی یاد دہانی کرانے کا ایک ذریعہ ہیں اور