خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 9 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 9

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ---- کر ان پر خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔۹ ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار کتب میں سے تفہیمات ربانیہ ہے یہ مکرم مولوی ابو العطاء صاحب کی لکھی ہوئی ہے اور ۱۹۳۰ء میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا نام تجویز فرمایا تھا اور اسے جماعت کا اعلیٰ لٹریچر قرار دیا تھا۔اب یہ کتاب دوسری بار مزید اضافہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔دوست اس کی خریداری کی طرف توجہ فرمائیں۔اسے ہر وقت اپنے پاس رکھنا چاہئے۔اس میں آپ کو بڑے مفید حوالے ملیں گے۔یہ کتاب ان لوگوں کے لئے بڑی ہی مفید ہے جنہیں دوسر۔لوگوں سے تبادلہ خیالات کا شوق ہے اور پھر اس کے مواقع انہیں میسر آتے ہیں۔سب سے بڑھ کر میں تفسیر صغیر کے متعلق کہنا چاہتا ہوں تفسیر صغیر کو حضرت مصلح موعودؓ نے بڑی محنت سے تیار کیا تھا اور بیماری کے دوران بڑا وقت صرف کر کے اور اطباء کی ہدایت کے خلاف محنت کر کے اسے جلد سے جلد شائع کرنے کی سعی فرمائی تھی اور اس سعی میں آپ کامیاب ہوئے جلدی کی وجہ سے یا کاتبوں نے حسب عادت بہت سی غلطیاں بھی کر دیں پروف ریڈنگ بھی صحیح طور پر نہیں ہوئی اس طرح جلدی میں یہ کتاب شائع ہو گئی۔حضور کے دل میں یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح آپ مختصر تفسیری نوٹوں کے ساتھ قرآن کریم کا ایسا با محاورہ اور تفصیلی ترجمہ شائع کر دیں۔جو رہتی دنیا تک انسان کی ہدایت کا موجب ہو اس لئے آپ اس کی صحت کی طرف زیادہ توجہ مبذول نہ کر سکے اس کی صحت کی ذمہ داری در اصل ان لوگوں پر تھی۔جو حضور کے ساتھ کام کر رہے تھے۔کیونکہ اس بات کی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ امام وقت ترجمہ اور تفسیر بھی لکھے گا اور پروف ریڈنگ بھی خود کرے گا۔بہر حال حضور کے ساتھ کام کرنے والوں کی پوری توجہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کتاب میں بہت سی غلطیاں رہ گئی تھیں۔حتی کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ بعض آیتوں کے بعض حصوں کا ترجمہ بھی کا تب نے چھوڑ دیا ہے اور پروف ریڈنگ کرنے والوں نے بھی اس کا خیال نہیں کیا۔پچھلے سال سے احباب جماعت کا بڑا مطالبہ تھا کہ تفسیر صغیر کا نیا ایڈیشن شائع کیا جائے اور اُسے اچھے کاغذ پر شائع کیا جائے پھر اس کی طباعت بھی اچھی ہو۔چنانچہ پچھلے سال سے ہی اس کی اچھی کتابت کروانے کے بعد بلاک بنوائے جارہے ہیں۔اس وقت تک پندرہ پاروں کے بلاک بن چکے ہیں اور چوہیں پاروں تک کتابت ہو چکی ہے۔امید ہے کہ یہ قیمتی کتاب مجلس