خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 179
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) -- ۱۷۹ ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کا بھی حافظ و ناصر ہو اور جیسا کہ میں نے کل بھی آپ کو اس طرف توجہ دلائی تھی وہ ہر قسم کی غلامی سے ہمیں محفوظ رکھے۔ہم کسی قسم کا سیاسی یا اقتصادی یا کسی اور قسم کا دباؤ چاہے وہ کسی طرف سے بھی ہو قبول نہ کریں۔صرف ایک ہی دباؤ ہمارے اوپر ہو اور وہی ہماری مسرت کا باعث ہو اور وہ دباؤ وہ ہے جو ہمارا رب ہمیں اپنی گود میں لیتے ہوئے اپنے سینہ سے لگا کر دباتا ہے اپنے جسم کے ساتھ اس کے علاوہ ہم ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہوں۔ہمیں بارش کی بھی بڑی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کرے کہ ہماری فصلیں زیادہ ہوں۔ہماری پیدا وار زیادہ ہو۔وہ اپنے مصالح کو زیادہ جانتا ہے۔اس لئے ہم یہ کیوں کہیں کہ اے خدا تو ہمیں بارش دے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کو یہ کہتے ہیں کہ اے خدا تو ہمیں عزت کی روٹی دے۔ہمیں کسی سے بھیک نہ منگوا نا۔ہمیں اپنے ہی در کے بھکاری بنائے رکھنا۔آمین اس کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب دوست دعا کر لیں۔اور اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت ایک لمبی اور پر سوز دعا فرمائی اور اس کے بعد جلسہ کے اختتام کا اعلان فرماتے ہوئے حضور انور نے دوستوں کو واپس جانے کی اجازت عطا فرمائی۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )