خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 172

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ---- ۱۷۲ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ۳۔پھر ایک حدیث نبوی ہے۔جس میں سورج اور چاند کے گرہن کا ذکر ہے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام فرماتے ہیں۔حدیث میں یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ جب وہ سچا مہدی دعویٰ کرے گا تو اس زمانہ میں قمر رمضان کے مہینہ میں ایسے خسوف کی پہلی رات میں منخسف ہوگا اور ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہ آیا ہوگا اور کسی جھوٹے مہدی کے وقت رمضان کے مہینہ میں اور ان تاریخوں میں کبھی خسوف کسوف نہیں ہوا اور اگر ہوا ہے تو اس کو پیش کرو۔ورنہ جب کہ یہ صورت اپنی ھیت مجموعی کے لحاظ سے خود خارقِ عادت ہے تو کیا حاجت کہ سنت اللہ کے برخلاف کوئی اور معنے کئے جائیں۔غرض تو ایک علامت کا بتلانا تھا۔سو وہ متحقق ہوگئی اگر متحقق نہیں تو اس واقعہ کی صفحہ تاریخ میں کوئی نظیر تو پیش کر داور یادر ہے کہ ہر گز پیش نہ کر سکو گے۔“ ( اعجاز احمدی ضمیمہ نزول امسیح۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۹ صفحه ۱۴۲،۱۴۱) ایک صاحب ذوق اور صاحب تقویٰ کے لئے یہ ایسی عجیب چیز تھی کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہی ایک بات کافی تھی کہ چودہ سو سال پہلے ایک راوی نے بیان کیا ہے اور اگر راوی کا بھی پتہ نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔صرف اتنا ہی کافی ہے کہ کسی یہ جگہ بیان ہوا ہے کہ جب مہدی ظاہر ہوگا تو چاند کو خسوف کی راتوں، گرہن کی راتوں میں فلاں رات کو اور سورج کو گرہن لگنے کے دنوں میں فلاں دن کو گرہن لگے گا۔اس کے علاوہ اس نشان کو ” آیتین" کہا گیا ہے۔یعنی یہ نشان در حقیقت دو نشان ہوں گے۔بچپن میں مجھے یہ دیکھ کر بہت گھبراہٹ ہوتی تھی کہ گو یہ ٹھیک ہے کہ چاند کا گرہن بھی ہے اور سورج کا گرہن بھی ہے اور اس طرح یہ آیتین یعنی دو نشان ہیں لیکن حدیث میں اس سارے واقعہ کو ملا کر اسے ایک نشان بتایا گیا ہے تو پھر اس کو دونشان کیوں کہا گیا ہے اور یہ گھبراہٹ مجھے اس لئے تھی کہ ابھی تک مجھے اس کا علم نہیں تھا میرا مطالعہ اتنا نہیں تھا لیکن جب اسی طریق پر اگلے سال پھر لگا گرہن اور وہ امریکہ میں لگا ہے دوسری دنیا میں۔گرہن ساری دنیا کو نظر نہیں آتا اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ ساری دنیا اس بات پر گواہ ہو کہ اس حدیث کے مطابق چاند اور سورج کو گرہن لگ گیا اس واسطے دنیا کے دونوں حصوں دو سالوں میں یہ گرہن لگا انہی شرائط کے مطابق۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر تمام واقعہ کو صفحہ ہستی سے