خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 152 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 152

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۲ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کرے۔اتماماً للحجة کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے انسماماً للحجة ( یعنی دشمن پر حجت تمام کرنے کے لئے ) اس کتاب میں وہ دلائل بھی لکھ دیئے جائیں۔جن سے یہ ثابت ہو کہ قرآن کریم ہی حق ہے اور کامل اور مکمل شریعت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی افضل الانبیاء اور خاتم النبیین ہیں۔آخری شریعت کے حامل اور تمام نبوتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے اور آپ وہ دروازہ ہیں جس کے واسطہ سے اور جس میں سے ہو کر ہر آسمانی نور حاصل کیا جاسکتا ہے اور جو شخص اس دروازہ کو چھوڑتا ہے اور کسی اور ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے نور کو حاصل کرنا چاہتا ہے وہ بے نور ہی رہتا ہے۔جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے۔آپ نے یہ کتاب لکھنے کے بعد ایک دعوت فیصلہ بھی دی۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔میں جو مصنف اس کتاب براہین احمدیہ کا ہوں۔یہ اشتہار اپنی طرف سے بوعدہ انعام دس ہزار روپیہ بمقابلہ جمیع ارباب مذہب اور ملت کے جو حقانیت فرقان مجید اور نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے منکر ہیں۔اتمــامــا للحجة شائع کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے اُن سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقیت فرقانِ مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے تحریر کیں ہیں۔اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر کے دکھلاوے یا اگر تعداد میں ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے یا مثلث اِن سے یا ربع ان سے یا مس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر بکلی پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبر وار تو ڑ دے تو اُن سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آ گیا۔میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلیتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا مگر واضح رہے کہ اگر اپنی کتاب کی دلائل معقولہ پیش کرنے سے عاجز اور قاصرر ہیں یا بر طبق شرط اشتہار کی شمس تک پیش نہ کرسکیں تو اس حالت میں بصراحت تمام تحریر کرنا ہوگا جو بوجہ نا کامل یا غیر معقول ہونے کتاب کے اس شق کے پورا کرنے سے مجبور اور معذور رہے اور اگر دلائل مطلوبہ پیش کریں تو اس بات کو یا د رکھنا