خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 150
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۰ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اور اسلام جھوٹ اور باطل ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ فیصلہ کی اس آسان راہ کو قبول کریں اور اس میدان فیصلہ میں جو نہایت شرافت اور تہذیب اور امن کی فضا میں کیا جائے گا۔آئیں اور اپنے مذہب کی صداقت کو ثابت کریں لیکن اگر وہ خاموشی اختیار کریں تو دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہو گی کہ ان کو اسلام کے مقابلہ میں آنے کی ہمت اور جرات نہیں۔(۲) دوسری دعوت فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ہرگز ممکن نہیں ( مجموعہ اشتہارات جلد نمبر ۲ صفحہ ۱۶) نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ مجھ پر ایمان لاتے ہیں اگر وہ قرآن کریم کی اس تفسیر سے جو میں اپنے رب سے روشنی حاصل کر کے اپنے ماننے والوں تک پہنچا رہا ہوں اپنی روح کو منور رکھیں گے تو جس طرح اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے فضل و کرم کر رہا ہے اور اپنی برکتیں نازل کر رہا ہے۔میرے ایسے ماننے والوں پر بھی وہ اپنے فضل و کرم کرتا رہے گا اور ان پر اپنی برکتوں کو نازل کرتا چلا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس دعوی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ہم تمام مذاہب کو یہ دعوت فیصلہ دیتے ہیں کہ تین ماہر ترین ڈاکٹروں کا انتخاب کریں اور پھر یہ منتخب ڈاکٹر جن ہیں مریضوں کا چاہیں انتخاب کرلیں اور ان کے متعلق یہ لکھ کر دے دیں ( نام اور پستہ کے ساتھ ) کہ ہم نے ان مریضوں کو اس لئے منتخب کیا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ لاعلاج ہیں اور ان کی موت کا وقت قریب آ گیا۔ہمارے نزدیک اب ان کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔نہ ان کی زندگی بچائی جاسکتی ہے اور پھر ان میں مریضوں میں سے دس مریض قرعہ اندازی کے ساتھ ہم لے لیں گے اور جو ہمارے مقابلہ پر آئے گا اور جو اسلام کو سچا نہیں سمجھتا اور صلح کی فضا میں ہم سے فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔دس مریض قرعہ اندازی کے ساتھ وہ لے لے اور پھر ہم بھی دعا کریں گے اور وہ بھی دعا کریں اور ہم پورے وثوق اور یقین کے ساتھ انہیں یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ صرف ہمارا تعلق زندہ خدا سے ہے اور ان کا تعلق زندہ خدا سے نہیں اس لئے وہ مریض جو ہمارے حصہ میں آئیں گے ان