خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 148
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۸ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب موقف تمہاری کتب اختیار کرتی ہیں وہ صحیح اور درست نہیں جب میں ان اصولوں پر تمہارے اعتراضات کو توڑ دوں گا جو تمہارے نزدیک اتنے وزنی ہیں کہ ان سے زیادہ وزنی اور کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور اس کا فیصلہ قرآن کریم کے حق میں ہو جائے تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ دیگر اصول اور جزئیات میں بھی قرآن کریم ہی حق پر ہے کیونکہ جب ایسی باتیں جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتراض تھیں وہ بھی قابل اغراض نہ ٹھہریں تو پھر جو باتیں تمہارے نزدیک نسبتا کم قابل اعتراض تھیں وہ خود ہی قابل اعتراض نہ رہیں گی چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات ان میں ایک ذرہ مواخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صد با جزئیات ہوتی ہیں اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑی مہلت کو چاہتا ہے اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اول بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرہ سے نسبت ہوتی ہے یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقوامی واشتد اور انتہائی درجہ کے ہوں جن پر ان کی نکتہ چینی کی پر زور نگاہیں ختم ہوگئی ہوں اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر انہیں پر جا ٹھہری ہوں سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کر کے حقیقت حال کو آزما لینا چاہئے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہو جائے گا کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق ناچیز نکلے تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے اور اگر ہم ان کا کافی وشافی جواب دینے سے قاصر رہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کر رکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجہ رذیل اور ناقص اور دور از صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در