خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 145

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۵ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب صرف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کو کہا کہ لڑنے اور جھگڑنے اور فتنہ و فساد کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں جھوٹا ہوں اور کذاب ہوں اور مفتری ہوں اور میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں سچا ہوں اور صادق ہوں اور خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے نیز میرا دعویٰ یہ ہے کہ میرا پخته تعلق خدا تعالیٰ سے ہے اب دنیا کا کوئی فلسفہ نہ اس دعوی کو غلط ثابت کر سکتا ہے اور نہ اسے صحیح ثابت کر سکتا ہے یعنی مدعی کا دعویٰ یہ ہے کہ میرا تعلق خدا سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے کہنے پر جو میں کہتا ہوں کہتا ہوں اور اس کے ارشاد کے مطابق جو میں کرتا ہوں کرتا ہوں تو اس کا فیصلہ زید اور بکر نہیں کر سکتے۔اس کا فیصلہ صرف خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے جس کی طرف میں اپنے دعوی کو منسوب کر رہا ہوں۔پس ایک مامور من اللہ اور اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بندے کا موقف یہ ہوتا ہے کہ چونکہ میرا دعویٰ خدا تعالیٰ سے ایک پختہ تعلق کا ہے اور اس کے حکم کے مطابق جو کام میں نے کرنے ہیں، کرنے ہیں اس لئے اس بات اور اس دعویٰ کا فیصلہ سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں کر سکتا اور جب خدا تعالیٰ نے ہی اس بات کا فیصلہ کرنا ہے تو اس کے لئے کسی بندوق کی ضرورت نہیں۔کسی نیزے کی ضرورت نہیں۔کسی تیر کمان کی ضرورت نہیں۔کسی کفر کے فتویٰ کی ضرورت نہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی مثلاً یہ ہوتا کہ تمام علماء ہند مجھے ایک بڑا عالم اور متقی سمجھتے ہیں تو پھر مخالف کہتا آؤ ہم ان سے پوچھتے ہیں لیکن آپ کا یہ دعوی نہیں ہے ، آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ایک محبوب بندہ سمجھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہونا چاہئے کہ آؤ خدا تعالیٰ سے پوچھیں اس طرح اگر آپ کو دعوی ہوتا کہ میرے پاس بڑی طاقت ہے تو مخالف آپ کے مقابلہ میں طاقت لے کے آتا اور کہتا تم کہتے ہو میرے پاس سو اٹھ باز ہیں۔ہم ایک سو ایک لٹھ باز لے آئیں گے۔آؤ مقابلہ کر لیں لیکن یہاں تو دعوی ہی لاٹھیوں کی لڑائی کا نہیں یہاں تو دعوی ہے اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا۔اللہ تعالیٰ کی نصرتوں کے حامل ہونے کا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک محبوب بندہ جسے اللہ تعالیٰ دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کرتا ہے وہ ہمیشہ دنیا میں امن کو قائم کرتا ہے، وہ صلح کو قائم کرتا ہے، محبت اور پیار سے محبت اور پیار کے فیصلوں کی طرف دنیا کو بلاتا ہے مگر دنیا گریز کرتی ہے۔مخالف اس کی اسی بات کا جواب دینے کی بجائے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ہم تمہیں آگ میں پھینک دیں گے۔ہم تم پر کفر کے فتوے لگائیں گے لیکن اس سے مدعی کا دعویٰ غلط