خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 141 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 141

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۱ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کہ اے خدا ہم جانتے ہیں کہ دنیا ہماری مدد نہیں کرے گی لیکن ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ تو ہمیں بغیر مدد اور بغیر سہارے کے نہیں چھوڑے گا پس آ اور ہماری مدد کر۔تب اللہ تعالیٰ جواب میں کہتا ہے کہ گھبراؤ نہیں میری مدد تمہارے قریب ہی ہے۔میں تو اس وقت تک اس لئے خاموش رہا کہ دنیا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو ملاحظہ کرے اور دیکھے کہ میرا یہ بندہ ایسا ہے۔جو اس قسم کے مظالم اور ایذا ئیں اور تکالیف میری خاطر برداشت کر سکتا ہے اگر دنیا یہ نظارہ نہ دیکھتی تو میرے اس بندہ کی قدر بھی دنیا کو معلوم نہیں ہوتی پس یہ سب کچھ جو کیا گیا یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کی عظمت کے قیام کے لئے اور آپ کی محبت کو دلوں میں پیدا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔پس ان لوگوں میں سے جو خدا تعالیٰ کی خاطر دو موتوں کو جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے قبول کر لیتے ہیں۔سب سے اعلیٰ اور ارفع اور کامل اور مکمل نمونہ اور اُسوہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل ہیں اور آپ کی محبت اور آپ کے عشق میں گم ہیں۔جنہوں نے اپنے وجود کو کلیاً محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں مٹادیا اور آپ کے وجود میں خود کو غائب کر دیا اور اس محبت اور عشق کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی ہر نظر سے مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام حقیقۂ پوشیدہ رہے کیونکہ وہ وجود ہی وہاں نہیں تھا بلکہ جس وجود پر دنیا کی نظر پڑتی تھی وہ تو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کا عکس اور آپ کی شبیہ تھی وہی محبت بنی نوع انسان کے لئے آپ کے دل میں وہی تڑپ اس بات کے لئے کہ دنیا اپنے رب کو اور اپنے محسن حقیقی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانے وہی اطاعت کا نمونہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق کہ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسی حدیث بھی ہو جس کے متعلق تمہیں علم ہو کہ اس کے راوی ثقہ نہیں ہیں لیکن اگر وہ قرآنی تعلیم کے خلاف نہیں تو چونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی ہے اس لئے اسے قبول کرو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالو۔انتہائی محبت اور انتہائی عشق جب تک جس کے دل میں نہ ہو اس کی ذہنیت یہ ہو ہی نہیں سکتی اور اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا کہ آنحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا نے اگر کسی کو انتہائی تکالیف پہنچائیں اور ایذا ئیں دیں اور بے عزتیاں کیں اور ہلاکت کے منصوبے باندھے اور اسے ہر طرح ذلیل اور نا کام کرنے کی کوشش کی تو وہ حضرت