خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 137
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۷ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب انتہائی مظلومیت اور متضرعانہ دعا اللہ تعالیٰ کی معجزانہ نصرت کو جذب کرتی ہے اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔کل رات سے مجھے انفلوئنزا کی شکایت ہے جس کے نتیجہ میں سر میں درد بھی ہے اور گلے پر اثر بھی۔دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی دعاؤں سے میری مدد کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا کرے کہ میں آج کی تقریر میں آپ کے سامنے ایسی باتیں بیان کروں جو اُسے پسند ہوں اور آپ کو فائدہ پہنچانے والی ہوں۔چند ہفتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا میں مبعوث ہو کر یہ اعلان کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ میں تمام دنیا میں اسلام کو پھیلاؤں اور تمام ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کروں۔مجھے اس نے اس لئے مبعوث کیا کہ میں ہر دل میں خدا تعالیٰ کی خالص توحید کا پودا لگاؤں اور ہر سینہ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے منورکروں آپ نے اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ اس کام میں کون میری مدد کرنے کو تیار ہے اُس آواز کو سن کر ہم نے جواب میں کہا نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ ہم خدا تعالیٰ کے لئے اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لئے آپ۔جھنڈے تلے جمع ہو کر دین اسلام کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں اور عہد بیعت باندھنے کے بعد ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہم بڑے ہی کمزور اور کم مایہ اور کم علم ہیں۔ہم نے اپنے رب سے عہد تو باندھ لیا ہے مگر اس عہد کا پورا کرنا ہمارے بس کی بات نہیں جب تک کہ وہی اپنے فضل سے ہمیں اس کی توفیق عطا نہ کرے۔غرض اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کے بغیر ہم اپنے اس وعدہ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے کہ اے مسیح محمد کی مد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو پھیلانے کے لئے ہم تیرے ساتھی بنتے ہیں اور خدا کے دین کے مددگار ہوتے ہیں“