خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 115

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۱۵ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض کتب اور کچھ کتب کے بعض حوالے آپ نے ان کے ہاتھ میں رکھے تھے۔اس سے پہلے وہ واقف ہی نہیں تھے ان چیزوں سے کوئی پیاس ان کے اندر نہیں تھی کوئی ان کے دل میں خواہش نہیں پیدا ہوئی تھی کہ ہم یہ پڑھیں۔اب آپ نے ان کو چسکا لگا دیا ہے۔اب کسی اور تحریر سے ان کی یہ پیاس نہیں بجھتی اتنے خطوط آتے ہیں میرے پاس کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا ترجمہ آپ کیوں نہیں کرتے انگریزی میں ہمیں کیوں محروم رکھا ہوا ہے بڑے ظالم ہوں گے آپ کہ آپ پیاس کو بھڑکا دیتے ہیں اور پانی مہیا نہیں کرتے۔تو یہ لٹریچر کیسے پیدا ہو کس طرح یہ طبع ہو کیسے یہ تقسیم کیا جائے جب تک ہمارے پاس پیسے نہ ہوں۔اس وجہ سے بھی ہمیں اپنی قربانیوں کے معیار کو بلند کرنا پڑے گا۔۳:۔وقف جدید وقف جدید بھی اپنے میدان میں اور ان ذمہ واریوں کے نباہنے میں جو ان کے سپرد کی گئی ہیں محض خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑا ہی اچھا کام کر رہی ہے۔لیکن وقف جدید کو بھی دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک معلمین کی اور ایک معلمین کے خرچ کو برداشت کرنے کی۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ تجویز ڈالی کہ جماعت کے پندرہ سال سے کم عمر بچوں سے یہ اپیل کروں کہ وہ وقف جدید کے چندے کا جو کم سے کم معیار ہے یعنی چھ روپے دے کر یا بعض گھرانے اگر بہت ہی کمزور ہوں تو سارے بچے مل کر ایک بچہ کی رقم چھ روپے آٹھ آنے ماہوار دے کر وقف جدید کا بوجھ اٹھا ئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر احمدی بچے اپنے مقام کو پہچانیں یا یوں کہنا چاہیئے کہ اگر احمدی بچوں کے والدین اپنے بچوں کو اس بات کے سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بچوں کو کیا مقام عطا کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں تو ہمیں وقف جدید کے چندہ کے متعلق کوئی فکر باقی نہ رہے۔سارا بوجھ موجودہ اور آئندہ تین سال کا بوجھ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑھنے والا ہے وہ ہمارے آج کے بچوں کی تعداد اگر سب اس میں شامل ہوں پورا کر دیتی ہے۔وہ جو تین سال کے بعد جو نئے بوجھ بڑھیں گے اس کے لئے آج سے اللہ تعالیٰ ہمیں نئے بچے دے رہا ہے اور ان تین سالوں میں میرے اندازہ کے مطابق ہیں یا پچیس ہزار بچے اگلے تین سال میں احمدی گھرانوں میں پیدا ہو جائیں گے اور پھر انشاء اللہ تعالیٰ یہ