خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 114

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۱۴ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب کو ماننا ہر ملک کے احمدیوں پر فرض ہے اور ہم احکام کے تابع ہیں لیکن غیر ممالک میں اسلام کے غلبہ کے لئے جو کوشش ، جو مجاہدہ ، جو جد و جہد اور تدبیر اس وقت اختیار کی جاری ہے اس میں ہمارا کنٹری بیوشن (Contribution) اس میں ہمارا حصہ زیادہ ہے اس لئے اس کا سارا انتظام ہم کریں گے۔صدر انجمن احمدیہ یا تحریک جدید نہیں کرے گی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک حد تک حق بجانب ہوں گے اور کہیں گے قربانیاں ہم دیں اور نظام ہم کسی اور کے ہاتھ میں رکھتے ہیں جس طرح آپ کے مطیع اور فرماں بردار تحریک جدید کے وکلاء ہیں اسی طرح ہم ہیں ہمیں کیوں محروم رکھا جائے۔تو مرکزی جماعتوں کا قربانیوں کا معیار بہر حال ان جماعتوں سے بڑھ کر رہنا چاہیئے اور اس وقت وہ مجموعی لحاظ سے ہم سے آگے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ کوئی ایک ملک ایسا نہیں ہے جس کی مالی قربانیاں مثلاً اس کا پانچواں یا دسواں حصہ بھی ہوں جو یہاں کی جماعت کر رہی ہے لیکن وہ بہر حال مجموعی حیثیت میں آج ہم سے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔کل ان میں سے کوئی ایک ملک ایسا ہو جائے گا آپ میں سے ہر شخص کی خواہش ، تمنا اور دعا ہے کہ مثلاً سیرالیون سارا احمدی ہو جائے، مثلاً غانا سارا احمدی ہو جائے، مثلاً گیمبیا سارا احمدی ہو جائے ، مثلاً نائیجیر یا سارا احمدی ہو جائے۔وہ کون سا ملک ہے جس کے احمدی ہو جانے کے متعلق آپ کے دل میں خواہش نہ ہو اور اس کے لئے آپ کی دعا نہ ہو جس وقت وہ ملک احمدی ہو گیا اور اس کی مالی قربانیاں آپ سے بڑھ گئیں اس دن وہ کہے گا نظام ہمارے ہاتھ میں دو یا ہمارے مقابلہ میں آکے قربانیاں دو۔تو قبل اس کے کہ ایسا دن آئے کہ آپ کے ہاتھ یہ سے فضیلت چھین لی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا نظام آپ کے ہاتھ میں دیا ہے اور آپ کے ہاتھ سے چلا رہا ہے۔ان باتوں کی طرف توجہ دو اور اپنی قربانیوں کے معیار کو اور قربانیوں کی رفتار کو بڑھاؤمل کے سب نے ایک تنبیہ ہمیں کر دی ہے۔وارننگ سگنل بلند ہو چکا ہے اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو مالی قربانیوں میں زیادہ سے زیادہ آگے نکلو جتنا لٹریچر ہے ( کتابیں، رسالے، قرآن قریم کے تراجم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے تراجم۔جن کی بڑی ضرورت ہے جتنی اچھی تربیت ہو گئی ہے ناں غیر ممالک میں مثلاً افریقہ کے حبشیوں کی۔