خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 113

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۱۳ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب حصہ اس بوجھ کا اپنے اوپر اٹھا رہی ہے۔ہمارے اوپر اتنا بوجھ نہیں پڑتا لیکن مشرقی افریقہ کا یہ حال نہیں وہاں کم از کم چند سال تک صحیح معنی میں جو سیدھے سادھے سادہ زندگی گزارنے والے واقف ہیں اس قسم کے استاد چاہئیں۔ورنہ مشرقی افریقہ میں ہماری رفتار ترقی رک جائے گی یا وہ بہت آہستہ ہو جائے گی۔وہاں اس وقت ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کی بڑی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے لیکن جب یہ ملک آزاد ہوئے وہاں عیسائیت کے ہاتھ میں حکومت کی باگ دوڑ آ گئی اور وہ بڑے تعصب سے کام لے رہے ہیں۔ہماری مدد کرنے کے لئے تیار نہیں۔کم از کم کچھ عرصہ تک ہمیں قربانی دینے والے اور ایثار پیشہ اساتذہ ایم۔اے، ایم۔ایس۔سی یا بی۔اے اور بی۔ایس۔سی ٹرینڈ اساتذہ چاہئیں جو ان ملکوں میں جا کر واقفین کے برابرگزارہ لیں یا شاید حالات اگر اجازت دیں تو ہم انہیں کچھ زیادہ بھی دے دیں وہاں جائیں اور سکولوں کی بنیا درکھ دیں۔میری یہ خواہش ہے اور میں اس کے لئے کوشش بھی کر رہا ہوں اور دعا بھی کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا کرے کہ بڑی جلدی اور پہلے منصوبہ میں مشرقی افریقہ میں ہمارے ہائرسیکنڈری یا سیکنڈری سکول قائم ہو جائیں کیونکہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اس کے بغیر ہماری ترقی وہاں رُک جائے گی۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہ میں اور نہ آپ اس بات کو برداشت کر سکتے ہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کے سامان پیدا کئے ہیں اپنی غفلتوں کی وجہ سے ان سامانوں کو ہم ضائع کر دیں اور ان مواقع کو کھو دیں تو ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو قربانی کرنے والے ہوں اور کم تنخواہ پر وہ مشرقی افریقہ کے تینوں ممالک میں ں جہاں بھی ہمارے سکول کھلیں جا کر کام کریں۔ایک ملک نے تو لکھا تھا کہ آپ فوراً ہمیں سکول کے لئے اساتذہ بھیجیں یکم جنوری کو جو گزر گیا ہے ہم وہاں سکول کھول دیتے کیونکہ حکومت یہاں جلد سکول کھولنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری ۳۳ سالہ کوشش کے نتیجہ میں جو آمد تحریک جدید کو مرکزی جماعتوں کی طرف سے ہوئی اس سے زیادہ آمد غیر ممالک کی جماعت کی ۲۳ سالہ کوشش سے ہو چکی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ سے آگے نکل گئے ہیں۔اگر وہ مالی قربانیوں میں مستقل طور پر آگے نکل گئے اور ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو کل کو ان کو یہ حق ہوگا کہ وہ یہ کہیں (اگر وہ سب اکٹھے ہو جائیں ) کہ یہ ٹھیک ہے کہ خلیفہ وقت کے احکام