خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 1

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹؍ دسمبر ۱۹۶۵ء۔افتتاحی خطاب میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور میں آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۱۹ دسمبر ۱۹۶۵ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اے خدائے بزرگ و برتر کی برگزیدہ اور محبوب جماعت ! خدا کرے کہ اُس کے قُرب کی را ہیں آپ پر ہمیشہ کھلی رہیں۔اے نورمحمدی کے پروانو ! خدا کرے کہ دُنیا کی کوئی شمع کبھی تمہیں اپنی طرف مائل نہ کر سکے۔اے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت گزار جماعت اور آپ کے جاں نثارو! خدا آپ کے نفوس اور اموال میں برکت ڈالے اور آپ ہمیشہ ان بشارتوں کے وارث بنے رہیں جو آسمان سے آپ کے لئے نازل کی گئی ہیں۔اے مصلح موعودؓ کے فیوض اور قوت قدسی سے تربیت یافتہ جماعت ! خدا کرے کہ آپ اس مقام تربیت سے کبھی نیچے نہ گر ہیں۔اے جان سے زیادہ عزیز بھائیو! میرا ذرہ ذرہ آپ پر قربان کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے جماعتی اتحاد اور جماعتی استحکام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق عطا کی کہ آسمان کے فرشتے آپ پر ناز کرتے ہیں۔آسمانی ارواح کے سلام کا تحفہ قبول کرو۔تاریخ کے اوراق آپ کے نام کو عزت ! کے ساتھ یاد کریں گے اور آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ آپ نے محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس بندہ ضعیف اور ناکارہ کے ہاتھ پر متحد ہو کر یہ عہد کیا ہے کہ قیام تو حید اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جو تحریک اور جو جد و جہد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع کی تھی اور جسے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے آرام کھو کر اپنی زندگی کے ہر سکھ کو قربان کر کے اکناف عالم تک پھیلایا ہے۔آپ اس جدو جہد کو