خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 108
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۰۸ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب ہے۔یہ رسالہ بھی اچھا اور دلچسپ ہے گو میرا یہ فرض ہے کہ میرے پاس جو رسالہ آئے اُسے میں پڑھوں لیکن اپنی مصروفیتوں کے باوجود جن رسالوں کو میں دلچسپی سے پڑھتا ہوں ان میں سے ایک رسالہ تحریک جدید بھی ہے۔یہ رسالہ بھی دلچسپ ہے دوستوں کو اس کی طرف بھی توجہ دینی چاہیئے اس کی قیمت بھی بہت کم ہے یعنی دور و پیہ سالانہ ہے اور یہ کوئی قیمت نہیں ہے۔: نئی مساجد ڈنمارک کے دارالخلافہ کو پن ہیگن میں مئی ۱۹۶۶ء میں مسجد کی بنیاد رکھی تھی جواب قریباً مکمل ہو چکی ہے چھتیں بھی پڑ چکی ہیں۔آخری جو کام ہوتے ہیں وہ تھوڑے بہت ابھی رہتے ہیں۔سمجھنا یہی چاہئے کہ یہ مسجد محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہوئی ہے اور اس کی بنیادیں بھی کافی دیر بعد مئی ۱۹۶۶ء میں رکھی گئیں تھیں۔غانا میں دونئی مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔مسا کا ( یوگنڈا) میں زیر تعمیر مسجد مکمل ہو چکی ہے۔ٹانگانیکا ( تنزانیہ ) میں ایک نئی مسجد تعمیر ہوئی ہے۔نائیجیریا میں پانچ زیر تعمیر مساجد میں سے ایک مکمل ہو چکی ہے۔یہ مسجد کا نو شہر میں ہے۔فری ٹاؤن کے اسٹرابیریا میں مسجد کی دیوار میں مکمل ہو چکی ہیں۔چھت پڑنی باقی ہے لیکن وہاں کی احمد یہ جماعت نے اپنی روایات کے مطابق نمازیں ادا کرنی شروع کر دی۔چھت بھی اپنے وقت پر پڑ جائے گی تو بطور مسجد کے وہ استعمال ہونے لگ گئی ہے۔گیمبیا کے قصبہ سارا کونڈا میں ایک مسجد تعمیر ہو چکی ہے اسی طرح’فیرافینی ، میں ایک مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔اور سالے کینیا میں ایک ایک مسجد تیار ہو چکی ہے۔گیمبیا وہ ملک ہے جہاں کا گورنر جنرل خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی کو مقرر کیا گیا تھا۔اور وہ کنفرم (Confrim) بھی ہو چکے ہیں اور مستقل گورنر جنرل بنا دیئے گئے ہیں۔جماعت کے کاموں میں بڑا حصہ لیتے ہیں دوستوں کو علاوہ باقی دوستوں کے جن کے لئے دعائیں کرنی ہیں ان کے لئے بھی دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بادشاہ جو ایک رنگ میں ایک آزاد ملک کا صحیح معنی میں بادشاہ ہے دیا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے تبرک حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ باوجود کوشش اور خواہش کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے تبرک کے بھجوانے میں دیر ہوتی چلی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی ایک حکمت رکھی ہوئی