خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 87 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 87

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶ جنوری ۱۹۶۷ء۔افتتاحی خطاب جو عہد بیعت تم نے باندھا ہے خدا کرے کہ تم ہمیشہ پختگی سے قائم رہو افتتاحی خطاب جلسه سالا نه فرموده ۲۶ جنوری ۱۹۶۷ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:۔وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِايْتِنَا فَقُلْ سَلْمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (الانعام: ۵۵) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات اور ہمارے کلام پر ایمان لاتے اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالتے ہیں تو تو انہیں ہماری طرف سے سلامتی کا پیغام پہنچا دے اور انہیں یہ بھی بتادے کہ تمہارے رب نے اپنے آپ پر تمہارے لئے رحمت کو فرض کر لیا ہے۔پس اے میرے عزیز بھائیو! جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جمیل کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جلسہ کی برکات سے استفادہ کے لئے یہاں جمع ہوئے ہومیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُس عظیم فرزند کی نیابت میں تمہیں سَلْمٌ عَلَيْكُمُ کہتا ہوں۔تمہارے رب کی رحمت کا سایہ ہمیشہ تم پر رہے۔جو عہد بیعت تم نے اپنے رب سے باندھا ہے خدا کرے کہ تم ہمیشہ اس پر پختگی سے قائم رہو۔اسے کبھی نہ توڑو۔یہ دُنیا بھی تمہارے لئے جنت بنی رہے اور مرنے کے بعد بھی ابدی جنت میں تمہیں داخلہ ملے جہاں ہر دروازہ سے فرشتے تمہارے پاس آئیں کہ تم خدا کی راہ میں ثابت قدم رہے اس لئے اللہ کی سلامتی تمہارے لئے مقدر کی گئی ہے۔دیکھو تمہیں ایک ایسی زندگی مل رہی ہے جس کے ساتھ فنا نہیں۔ایک ایسی تو نگری عطا ہو رہی ہے جس کے ساتھ فقر اور تنگدستی کا کوئی خطرہ نہیں۔خدائے عزیز تمہیں ایک ایسی عزت بخش رہا ہے جس کے ساتھ کوئی ذلت اور