خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 718
۳۸ شفقت على خلق الله صحابہ اپنے سارے اموال اور ساری غیر منقولہ وہ تو اپنے تصور میں نہیں لا سکتے تھے کہ افریقہ جائیداد مکہ میں ہی چھوڑ آئے تھے میں کوئی ان کے بچوں سے پیار کر سکتا ہے صبر ص ۴۸۸ آپ کو اس قسم کی رضا کارانہ خدمت کی اس دنیا میں کوئی مثال نہیں ملے گی صحابہ ایک لمبے عرصہ تک اپنے سارے اموال ۲۵۰ صبر کے معنی مصائب پر واویلا نہ کرنے کے اوقات، جانوں اور عزتوں کو قربان کرتے رہے ۲۵۰ بھی ہیں صبر کے معنی نیکیوں پر ثبات قدم دکھانے کے بھی ہیں صبر کے معنی رک جانے کے بھی ہیں صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر فر د جماعت کو چاہیئے کہ اپنے اندر صحابہ رسول والی بنیادی خوبیاں پیدا کرے ۲۳۷ ۲۳۷ ۲۳۷ ۲۲۶،۲۲۵ انہوں نے دنیا کی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا اور اپنے رب کی رضا پر خوش رہے صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا‘ بلکہ ہرنسل جو بعد میں آئی وہ صحابہ سے ملتی چلی گئی صحبت صالحین خدارسیدہ بزرگ انسانوں کی ضرورت ہے ۲۵۰ ۵۲۵ جو وہاں جا کر اپنا نمونہ ان کے سامنے رکھیں ۲۷۸ قرآن شریف صحابہ کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے ۲۳۹ دنیا میں اپنا اور امت مسلمہ کا ایک حسین نام چھوڑ گئے ۲۳۸ صداقت حضرت موسی نے اپنی قوم سے کہا جب صحابہ جیسی اطاعت خدا اور رسول کی ہم کریں پوری صداقت تمہارے سامنے آئے اسے قبول کرنے کے لئے تیار رہو تو خانہ کعبہ کے مقاصد ہم حاصل کر سکتے ہیں ۲۳۸ اطاعت کی روح اس قدر پختہ اور بیدار تھی صدر انجمن احمد یہ پاکستان ۴۱۸ ۳۷ ،۳۴،۷ کہ نشہ کی حالت میں بھی اطاعت کر گئے ۳۸۰،۳۷۳،۲۸۸ ،۱۹۸ ،۱۹۷ ، ۱۳۳، ۱۲۸ ،۱۱۴ ۲۳۸ ان میں سے کوئی شخص دوسرے سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتا تھا ۲۴۷ ۳۸۵،۳۸۳، ۴۵۵،۳۸۷، ۵۴۱ تا ۵۵۴،۵۴۳ ۶۳۹،۶۳۰،۶۲۲،۵۵۵ صحابہ کی زندگیاں روح مسابقت کے حسین صدرانجمن احمدیہ کے سپر دایک عظیم کام ہے مناظر سے بھری پڑی ہیں ۲۴۸ اور اس کی ذمہ واری بہت زیادہ ہے ۱۵