خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 666
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب علاقوں میں بھی بولی جاتی ہو۔بہر حال ہاؤ سا سمیت افریقہ کی تین زبانوں میں تراجم ہونے چاہئیں۔اسی طرح یوگو سلاوی زبان میں تفسیری نوٹوں کے ساتھ ترجمہ کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ ایک اور چیز بھی بہت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے لئے آج کل کے حالات کے لحاظ سے یہ بہت ضروری ہو گیا کہ ہم قرآن کریم کی عربی تفسیر شائع کریں۔ہم پر اس سلسلہ میں اعتراضات بھی ہوتے رہتے ہیں۔اس پر گھبرانے کی یا غصہ میں آنے کی ضرورت نہیں لیکن میں عینی شاہد ہوں کہ وہاں ہمارے عربی لٹریچر کی بڑی مانگ ہے۔میں جب پڑھنے کے لئے انگلستان گیا تھا تو اس وقت میں کچھ دیر کے لئے مصر میں بھی رکا تھا۔مصریوں نے یک زبان ہو کر کہا تھا کہ ریویو میں کبھی کبھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی جو تفسیر چھپتی رہتی ہے جب ہماری نظر سے گزرتی ہے تو ہم اس کو پڑھے بغیر رہ نہیں رہ سکتے بلکہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے پڑھ کر احمدیت میں داخل نہ ہوں۔تو ان کو تر جمہ کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ خود عربی دان ہیں۔تاہم ترجمہ کی اس لحاظ سے ضرورت تو ہے کہ عربی دانوں نے بھی ترجمہ کیا ہے مختصر تفسیر کے رنگ میں ) ان کو ضرورت ہے قرآن کریم کے ان رموز اور اسرار روحانیہ کے جاننے کی جن کی اس دنیا کے انسان کو ضرورت تھی اور وہ مسیح موعود اور مہدی معہود کو سکھائے گئے تھے اور وہ ان سے محروم ہیں۔ہم ان کے خادم ہیں۔اب ظاہر ہے خادم ہونے کا نعرہ لگانا اور خدمت سے انکار کرنا درست نہیں پس ان کی خدمت کا جذ بہ رکھنا ہم سے یہ تقاضہ کرتا ہے کہ ہم قرآن کریم کی وہ تفسیر جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل۔مہدی موعود کو سکھایا تھا وہ ان تک پہنچائیں اور یہ ان پر انشاء اللہ اثر کریں گی اور ان کے تعصبات اور غلط فہمیاں جو عدم علم اور غفلت کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں وہ انشاء اللہ دور ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بشارت دی ہے کہ اہل مکہ فوج در فوج اللہ کی اس ނ جماعت میں شامل ہوں گے۔آج نہیں تو کل لوگوں نے احمدیت کی طرف ضرور آنا ہے۔اسی طرح ہمیں فارسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر شائع کرنی چاہئے اور وہ اس لئے کہ جس طرح ایک بہت بڑے علاقے میں مادری زبان کے طور پر عربی بولی جاتی ہے اسی طرح ایک بہت بڑے علاقے میں فارسی بھی مادری زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔دوسرے اس لئے بھی کہ ایران میں اکثریت شیعوں کی ہے اور چونکہ دوسروں کی نسبت شیعوں کا امام مہدی۔