خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 664
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب یہ ہے یورپ۔اور یورپ کا ایک حصہ ہے انگلستان جو ساتھ ہی لگتا ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی مضبوط جماعت قائم ہے لیکن وہاں کام کا پھیلاؤ بھی زیادہ ہو گیا ہے اور تبلیغ کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس لئے انگلستان میں جماعت احمدیہ کے کام کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں وہاں تین سے پانچ تک نئے مبلغ بھجوانے ہوں گئے اور کئی جگہ نئے مرکز بھی کھولنے پڑیں گے۔جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے اس کے دو حصے ہیں۔ایک وہ حصہ ہے جس میں انگریزی غالب ہے اور دوسرے حصہ میں سپینش اور پرتگالی زبان غالب ہے۔جہاں انگریزی غالب ہے وہ کینیڈا اور شمالی امریکہ ہے۔اسے امریکن لوگ دی سٹیٹس (The States) کہتے ہیں۔جن کا خیال ہے کہ دی سٹیٹس صرف امریکہ کا علاقہ ہے۔بہر حال امریکہ میں اشاعت اسلام کے کام کو تیز کرنے کے لئے ایک تو کینیڈا میں مرکز کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں نہ تو کوئی مرکزی مسجد ہے اور نہ مشن ہاؤس ہے اور امریکہ میں بھی تین سے پانچ نئے مبلغ اور ان کے لئے نئے مشن ہاؤسز کھولنے پڑیں گئے۔جنوبی امریکہ میں بھی تین مراکز اور مرکزی مساجد کا انتظام کرنا ہے۔ویسے وہاں مساجد تو ہیں لیکن اشاعت اسلام کا کام نہیں ہو رہا۔پس اشاعت اسلام کے لئے یہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔کچھ علاقوں کی طرف ممکن ہے زیادہ توجہ دینی پڑے۔اس وقت جو میرے ذہن میں تھا وہ بتا دیا ہے۔یہ وہ کوشش ہے جو اشاعت اسلام کی مہم کو تیز کرنے کے لئے کی جانے والی ہے اور جو میں نے نام لئے ہیں مساجد اور مشن ہاؤس کے، اس کے لئے بھی شاید ستر اسی لاکھ یا ایک کروڑ روپے کی ضرورت پڑے گی۔بہر حال ضرورت حقہ کے لئے فرشتے آسمانوں سے دولتیں لے کر زمین پر اترتے ہیں۔اس لئے مجھے اس ضمن میں بھی خدا تعالی کی مدد پر پورا بھروسہ ہے۔دوم : قرآن کریم کا ترجمہ نوع انسانی کے ہاتھ میں دینا اشد ضروری ہے۔میں نے کل بتایا تھا کہ اس وقت تک چھ زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔بعض زبانوں میں تراجم تو ہو چکے ہیں لیکن ان کی اشاعت میں کچھ دقت تھی۔ان میں ایک فرانسیسی زبان میں ترجمہ قرآن کریم ہے۔اس کی نظر ثانی بھی ہو چکی ہے۔میرا خیال تھا کہ یہاں پر یس جلدی لگ جائے گا تو اس کی طباعت سنتی بھی ہوگی اور جلدی بھی ہو جائے گی۔لاہور میں جو انگریزی ترجمہ قرآن مجید