خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 659 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 659

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب مثال دیتا ہوں۔ہماری ایک احمدی بہن ایک رات عاجزانہ طور پر گڑ گڑا کر دعا ئیں کر رہی تھی۔یکے بعد دیگرے تین دفعہ اس سے خدا ہم کلام ہوا اور تیسری دفعہ جو چاہتی تھی اس کے مطابق اس کو تسلی دی گئی۔یہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کا واقعہ ہے اس احمدی عورت کا ایک لڑکا میجر تھا اور محاذ جنگ پر لڑ رہا تھا اور اس محاذ پر شدید جنگ لڑی جارہی تھی خدا تعالیٰ نے اس سے پہلے یہ کہا کہ پاکستان کی حفاظت کا سامان کیا گیا۔اس عورت کی مامتانے کہا اے ہمارے رب ! بڑا فضل کیا تو نے لیکن میرا ! دل تو اپنے بیٹے کے لئے تڑپ رہا ہے۔اس کے لئے مجھے تسلی چائیے۔تب خدا تعالیٰ نے اسی ا رات اسے دوسری مرتبہ بتایا کہ اس محاذ پر جہاں اس کا بیٹا لڑ رہا ہے وہاں خدا تعالیٰ نے حفاظت کے لئے فرشتے بھیج دیئے ہیں مامتا کو پھر بھی تسلی نہ ہوئی۔اس نے کہا اے خدا! ہمیں بحیثیت قوم تیرا ممنون ہونا چاہیے اور تیری حمد کے ترانے گانے چاہئیں لیکن میرا دل اب بھی تسلی نہیں پکڑتا میرا دل تو اپنے بچے کے لئے بے چین ہے۔تب اسی ایک رات میں خدا نے تیسری بارا سے بتایا کہ ہم تیرے بچے کی حفاظت کریں گے۔میں نے اس عیسائی عورت سے کہا تین دفعہ بات کرنا بڑی عجیب بات ہے لیکن میرے نزدیک اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ جب اس نے خدا تعالیٰ کی یہ آواز سنی تو اس کا دل تسلی پا گیا۔اس نے یہ بھی نہ سمجھا کہ شاید یہ خدا کی آواز نہ ہو۔میرے دل کا واہمہ ہو یا شیطانی وسوسہ۔کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایک عظمت اور شوکت ہوتی ہے۔میں نے اس انگریز عورت سے کہا تم عیسائی دنیا سے مجھے ایک مثال بتا دو۔میں تمہیں جماعت احمدیہ میں سے ہزاروں ایسی مثالیں دے سکتا ہوں۔پس جس وقت عیسائیت اپنی ساری طاقتوں کو جمع کر کے اور الحاد کی ساری افواج کو اکٹھا کر کے اور اپنا حلیف بنا کر اسلام کو مٹانے کے لئے حملہ آور ہوئی تھی اس وقت اسلام کی حفاظت کے لئے اور اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے کون آگے بڑھا ؟ اس وقت خدا نے مہدی معہود اور مسیح موعود کو کھڑا کیا۔وہ اکیلا تھا۔اس کی آواز اپنے گھر میں بھی سنائی نہ دیتی تھی۔اس کی آواز پنے رشتہ داروں کے کانوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی مگر خدا نے آپ کو فر مایا کہ میں نے جس غرض کے لئے تجھے بھیجا ہے اس کا میں خود ذمہ دار ہوں اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ تو کامیاب ہو گا۔جس وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا اس وقت تو قادیان کے پانچ میل کے فاصلے پر بہت سے گاؤں