خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 622
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۲ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب قاضی محمد نذیر صاحب کی۔" مسیح الدجال اور یاجوج و ماجوج کا ظہور ، مصنفہ مولوی محمد اسد اللہ صاحب قریشی کا شمیری " تفسیر صغیر کے بیمثال معنوی لغوی اور ادبی کمالات مصنفہ مولوی دوست محمد صاحب اور Jesus son of Mary‘ ڈاکٹر قاضی برکت اللہ صاحب حال امریکہ کا ایک مقالہ ہے اور قریشی لطیف صاحب کی بار امانت اور سادہ نظمیں“۔”یا درکھنے کی باتیں اور شمائل احمد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی۔" حضرت بابا نانک صاحب کا مقدس چولہ گیانی عباداللہ صاحب کی اور بھی کچھ کام کی کتابیں ہیں ان کی طرف توجہ دیں۔ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔جو بچوں والے ہیں وہ اپنے بچوں کے لئے خریدیں اور دیکھیں کہ وہ ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔دوسری بات فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق ہے۔۱۹۶۶ء میں یعنی آج سے تقریباً سات سال قبل فضل عمر فاؤنڈیشن کے نام سے اس مجلس کا اجراء ہوا تھا اور ۱۹۶۶ء میں اس لئے اس کا اجراء ہوا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد جماعت کے ایک حصہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آپ کے نام پر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ایسوسی ایشن قائم کی جائے اور جماعت اس میں مالی قربانی دے اور آپ کے نام سے تعلق رکھنے والے بعض کام کئے جائیں۔اس میں جماعت نے بڑے پیار سے حصہ لیا اور پاکستان کی جماعتوں نے ساڑھے چوبیس لاکھ روپہ اس کے لئے بطور چندہ کے ادا کیا اور بیرونِ پاکستان نے قریباً ساڑھے بارہ لاکھ روپیہ اس کے لئے ادا کیا۔اس عرصہ میں فضل عمر فاؤنڈیشن نے اپنے طریق کار کے مطابق بہت سا روپیہ منافع کی کمپنیوں میں لگا دیا جن کے ڈیویڈنڈ (Dividend) ملتے ہیں اور گزشتہ سات سال میں پاکستان میں قریبا ساڑھے آٹھ لاکھ روپیہ نفع ملا اور بیرونِ پاکستان میں قریبا اڑھائی لاکھ روپیہ فع حاصل ہوا۔اس کے مقابلہ میں اِس عرصہ میں اخراجات چار لاکھ چوہتر ہزار روپے ایک اور دولاکھ تہتر ہزار روپے ایک اور بیرونِ پاکستان میں خرچ نو ہزار روپے ہوا۔ایک تو جو آپ نے صدرانجمن احمدیہ کے دفاتر کے پہلو میں لائبریری کی جو خوبصورت عمارت دیکھی ہے وہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے اپنے خرچ کی بنا پر شاید ساری کی ساری یا بہت حد تک اسے فرنشڈ (Furnished) کر کے جماعت کے سپرد کر دی کہ اس میں لائبریری رکھی جائے۔جب اس کا افتتاح ہوا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس کے افتتاح کی توفیق دی تو وہاں میں نے دیکھا کہ جتنے عرصہ