خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 596
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۶ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب نوع انسان اور نیز غیر انسان کا مربی بنا اور ادنیٰ سے ادنی جانور کو بھی اپنی مربیانہ سیرت سے بہرہ نہ رکھنا ایک ایسا امر ہے کہ اللہ کی کچی عبادت کرنے والا کمال محبت سے اس الہی سیرت کا پرستار بن جاتا ہے اور خود بھی اس صفت اور سیرت کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے تا اپنے محب کے رنگ میں آجائے۔“ گو یا اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بننے کا جو حکم دیا اس کو یاد دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اندر صفت ربوبیت پیدا کریں اور اس کے نتیجہ میں انسان اور غیر انسان کے مربی بننے کی کوشش کریں۔یعنی انسان تو کیا جانوروں کو بھی اپنی مربیانہ صفت سے بے بہرہ نہ رکھیں۔ہمارے جماعتی پروگرام اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے جاتے ہیں۔دنیا دیکھتی ہے اور بڑی حیران بھی ہوتی ہے کہ ہمیں اس ملک میں اپنے آرام اور سکھ بھی عام لوگوں جتنے نصیب نہیں ہیں ہم ایک غریب قوم ہیں مگر خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر حال میں دنیوی مرضیات پر ترجیح دیتے ہیں۔ہمارا زمیندار اگر ہفتہ میں ایک دفعہ مزیدار سالن کے ساتھ روٹی کھا سکتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں وہ بھی نہیں کھاتا میں اس لذت کو کھوتا ہوں آخر وہ کیا چیز ہے جو اس جذبہ کے پیچھے کام کر رہی ہے۔دنیا حیران ہے بعض دفعہ وہ ہمیں بیوقوف بھی سمجھتی ہے۔کیونکہ وہ خدا اور اُس کے حُسن سے بے بہرہ ہے اور یہ امر ہمارے لئے غم اور افسوس کا باعث کہ لوگ خدا کی صفات سے کیوں غافل ہیں۔پس ہمارے پروگرام بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے ہیں اور ہمیں اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔بعض جاہل اور کم علم لوگ مجھے بھی لکھ دیتے ہیں کہ اپنے ملک میں تو کچھ نہیں کرتے اور غیر ملکوں میں توجہ دیتے ہیں۔ہم تو پیدا ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ غیروں کی خدمت کریں۔اگر غیروں سے تمہاری مراد باہر کے ممالک ہیں تو وہ بھی مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔ہمیں پیدا ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ ہر وہ جگہ جس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جلوے نظر آتے ہیں وہاں ہم پہنچیں ! اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے جلوؤں کے ساتھ اپنی استعداد کے مطابق اپنی ربوبیت کے تھوڑے بہت جلوے بھی شامل کر دیں۔پھر خدا تعالیٰ چونکہ بڑا مہربان ہے وہ کہتا ہے میرے بندوں نے سب کچھ کیا ہے حالانکہ کیا