خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 580
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب گے۔جسے تم اپنی فطری استعداد کی کمال نشو و نما سے حاصل کر سکتے تھے۔انسانی قوتوں اور طاقتوں میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کمال حاصل تھا اُس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مراتب قرب و محبت کا اعلیٰ و اکمل درجہ وہ ہے۔ناقل )‘، جس میں ایک نہایت افروخته شعله محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے۔( بھڑک اُٹھتا ہے۔ناقل ) اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ وریشہ پر استیلاء پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے۔اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی۔صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو رُوحِ امین کے نام سے بولتے ہیں۔کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اُس کا نام شدید القویٰ بھی ہے۔کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر (طاقت) وحی متصور نہیں اور اس کا نام ذو الافق الا علی بھی ہے۔کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو داسی مارالہی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان وو ہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے۔جو انسانِ کامل ہے۔جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے اور دائرہ استعدادات بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے۔ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا۔۔۔۔۔محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ( توضیح مرام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفه ۶۳ ۶۴)۔پس یہ تو وہ دائرہ کمال ہے جس میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری استعدادیں اپنے کمال کو پہنچیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بھی اور اُن کی نشو و نما کے لحاظ سے بھی امت محمدیہ کے لئے ایک کامل نمونہ بنے۔اس میں ہمارے لئے یہ سبق ہے اور ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچایا۔اسی طرح تمہیں بھی جو قو تیں اور استعدادیں دی گئی ہیں تمہارا بھی فرض ہے کہ تم ان کی نشو و نما کو کمال تک پہنچاؤ اور تم ایسا کر سکتے ہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔