خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 48

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب شائع کئے گئے تھے۔جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے سراج منیر روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ صفحه ۳۶) سراج منیر ۱۸۹۷ء میں تصنیف ہوئی تھی۔گویا ۱۸۹۷ء میں کامل انکشاف کے بعد حضور نے دنیا کو اپنے الفاظ میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا ہے کہ جس بچے کا نام میں نے تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمو در کھا تھا۔وہی لڑکا حقیقت مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے۔یہ مختصر سی تمہید میں نے صرف یہ بتانے کے لئے بیان کی ہے کہ اگر کوئی نو احمدی یا کوئی احمدی نوجوان یہ اعتراض سے کہ مصلح موعود کی پیشگوئی کسی اور وقت میں پوری ہوئی تھی ( اور خلافت سے برگشتہ لوگ جنہوں نے اپنا علیحدہ مرکز بنالیا ہے یہی پروپیگنڈا کرتے ہیں ) تو اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک وقت میں اشتہار دیا کہ میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہو چکا ہے اور میں نے تفاؤل کے طور پر اس کا نام بشیر اور محمود رکھا ہے پھر (اس جگہ فرمایا گو یہ الفاظ نہیں لیکن مفہوم یہی ہے کہ میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ خود مجھے یہ علم دے گا کہ آیا پسر موعود یہی لڑکا ہے جو عمر پانے والا ہے یا اس کے بعد کوئی اور آئے گا آپ نے دنیا کو بتایا کہ مجھ پر انکشاف ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ مجھے یہ خبر دے چکا ہے کہ وہی بچہ مصلح موعود ہے جس کا نام میں نے تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود رکھا تھا اور جس کے متعلق میں نے سبز اشتہار میں پیشگوئی شائع کی تھی۔خدا تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق وہ لڑکا پیدا ہو گیا ہے اور اب نویں سال میں ہے اس دلیل کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی وہ لڑکا معین ہو گیا۔جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود بن کر دنیا کی طرف آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مصلح موعود کے متعلق جو پیشگوئی فرمائی تھی۔اس کے الفاظ یہ ہیں۔خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے ( جل شانہ وعز اسمہ) مجھے کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے