خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 558 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 558

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۵۸ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ضرور بن جائے گا۔یہ نفع تو ضرور ہے۔لیکن ہم اس کو نفع نہیں کہہ سکتے گویا ہم قرآن کریم اردو ترجمہ اصل لاگت پر دے رہے ہیں۔گویا ستر ہزار میں سے پچیس ہزار کی تعداد میں قرآن کریم مترجم نصرت جہاں کی سکیم کے ماتحت یہاں سے خرید کر باہر بھجوائے گئے ہیں اور اس کے علاوہ قریباً چھ ہزار نسخے ( بعض جگہ تھوڑے سے سادہ قرآن کریم بھی گئے ہیں) باہر والوں نے LC کھول کر منگوائے ہیں۔اس سے ہماری حکومت کو بڑا فائدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں بھی میں نے ایک سکیم بنائی ہے۔حکومت کی بھی تو خدمت کرنی چاہئے۔اس واسطے میں نے سکیم بنائی ہے کہ پہلی سیڑھی یا پہلے درجہ پر ایک لاکھ قرآن کریم گیارہ ڈالر فی نسخہ قیمت پر امریکہ بھجوائے جائیں۔اس سلسلہ میں ہماری خط و کتابت کافی آگے بڑھ چکی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حکومت کو گیارہ لاکھ ڈالر یعنی ایک کروڑا کیس لاکھ روپیہ زرمبادلہ حاصل ہوگا۔پھر ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ کاغذ منگوانے دو۔کچھ پریس کی مشینری منگوانے دو۔پس یہ سکیم بھی ٹھوس نیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔امریکن کمپنیوں سے با قاعدہ خط وکتابت ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں قرآن کریم اچھے کاغذ پر چاہئے اور ۶۰ فیصد کمیشن دو۔ہم اس کا انتظام کر رہے ہیں۔کیونکہ امریکہ میں لوگ بڑی قیمت پر کتابیں لے لیتے ہیں۔ایک امریکن یہاں آیا تھا تو چونکہ پہلے ہمارا اندازہ تھا کہ چار پانچ شلنگ قیمت رکھیں گے چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ ہم اتنی تھوڑی قیمت پر قرآن کریم دیں گے۔تو وہ چیخ پڑا اور کہنے لگا خدا کے لئے اتنی ستی کتاب ہمارے ملک میں نہ بھیجیں ہمارا ملک بہت امیر ہے لوگ سمجھیں گے کہ چونکہ اس کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے اس لئے یہ اچھی کتاب نہیں ہے جب تک آپ اس کی زیادہ قیمت نہیں رکھیں گے لوگ اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے۔چنانچہ اس نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس کی کم از کم گیارہ ڈالر قیمت رکھیں بہر حال اس کے لئے میں نے اپنی برادری کا وہ حصہ ( جماعت احمد یہ ایک بین الاقوامی برادری بن جاتی ہے ) جولندن میں آباد ہے یعنی لندن کی جماعت سے کہا ہے کہ بارہ تیرہ ہزار قرآن کریم شائع کرنے کے لئے بہترین کاغذ ( جس کے نمونے ہم نے منگوا کر دیکھ لئے اور پسند کر لئے ہیں) وہ ہمیں تحفہ بھیجو۔پس اچھا کا غذ یہاں تحفہ آ جائے گا پھر ہم اس پر قرآن کریم طبع کروا کر امریکہ بھجوائیں گے۔کیونکہ یہاں کا بنا ہوا جو کا غذ اس وقت مل رہا ہے وہ اتنا اچھا نہیں۔کیونکہ ہمارے