خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 543
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۳ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطاب سے دیئے جائیں۔یعنی موسم سرما کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جو دو افراد ہیں ان کو ۳۲ روپے اور جس شخص کا خاندان دس افراد پر مشتمل ہے ان کو ۱۶۰ روپے دیئے گئے۔اس لحاظ سے اس کارخیر میں صرف صدر انجمن احمدیہ کا جو حصہ ہے وہ ۳۰۴۷۲ روپے کا ہے اس کے علاوہ جو کارکن نہیں اور جن کی خبر میں عام طور پر رکھتا ہوں۔اس موسم میں بھی اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔تا ہم یہ صحیح ہے کہ بعض لوگوں کو مانگنے کی عادت پڑ گئی ہے۔چنانچہ ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب باہر سے آئے تو مجھے کہنے لگے کہ یہاں غریب کو پوچھنے کا کوئی انتظام نہیں۔میں نے کہا کیا بات ہے کہنے لگے کہ ایک شخص میرے پاس آیا تھا اور وہ رو رہا تھا کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں۔میرے ذہن میں آیا کہ فلاں شخص کو مانگنے کی عادت ہے ہوسکتا ہے وہی ہو۔میں نے کہا ابھی پانچ چھ دن ہوئے اتنی رقم تو وہ مجھ سے لے کر گیا ہے۔پس ایسے لوگ بھی ہیں جن میں اس قسم کی کمزوری پائی جاتی ہے۔دوست ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس کمزوری کو دور کر دے۔بہر حال ہم اپنے دوستوں کی ضرورت کا حسب توفیق خیال رکھتے ہیں۔چنانچہ ۱۹۶۷ من گندم ایسے خاندانوں میں مفت تقسیم کی گئی جو کار کن نہیں تھے اور اس کے اوپر ۳۴۷۱۳ روپے خرچ کئے گئے۔اس کے علاوہ فطرانہ ہے اور زکوۃ فنڈ ہے اور بعض دوسری رقمیں ہیں جو دوست بھجوا دیتے ہیں۔یہ اس وقت تک ( جب کہ ابھی سال ختم نہیں ہوا ابھی بہت ساری رقم آئندہ دو چار مہینوں میں خرچ کی جائے گی ) ان رقموں میں سے بھی جن کا زیادہ تر حصہ ربوہ میں مقیم غیر کا رکن کو دیا جاتا ہے۔یہ پچپن ہزار روپے کی رقم ہے۔پس یہ ملا کر قریبا نوے ہزار روپے کی رقم بن جاتی ہے۔(جس میں بمشکل پانچ فیصد کا رکن ہوں گے کیونکہ ان کو الگ طور پر امدادمل جاتی ہے ) جو ربوہ کے غریب گھرانوں کو بطور امداد دی جاتی ہے مثلاً ان لوگوں کو جن کے زیادہ بچے ہیں اور آمدنی تھوڑی ہے یا مختلف حالات ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی مختلف شکلوں میں امداد کی جاتی ہے یہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل کا اظہار ہے کسی پر احسان جتانا مقصود نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس کی توفیق سے ہم اپنے بھائیوں کی ایک حد تک خبر گیری کر سکے۔صدر انجمن احمدیہ کے لازمی چندہ جات کا جو بجٹ ہے یعنی چندہ عام اور حصہ وصیت اس پر بھی مشرقی پاکستان کے کٹ جانے کا اثر پڑا اور یہ اثر پڑنالازمی تھا مگر باوجود اس کے کہ گذشتہ