خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 527
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۷ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ کی بنیا د اعلائے کلمہ اسلام پر رکھی گئی ہے افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے جلسہ سالانہ سے قبل یعنی آج سے ۸۲ سال پہلے جو اشتہار دیے تھے ان میں بعض بنیادی باتیں بیان فرمائی تھیں۔ان اشتہاروں میں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ بھی ایک جلسہ ہے دنیا میں اس سے ملتے جلتے اور بھی اجتماع میلوں کی شکل میں ہوتے رہتے ہیں جن کو لوگوں نے مختلف اغراض کے لئے جاری کیا ہے۔مگر یہ نہ ہو کہ آئندہ کسی وقت جماعتِ احمدیہ کے افراد اس جلسہ کو بھی کوئی میلہ سمجھ لیں اور جلسہ میں شامل ہو کر روحانی فائدہ اٹھانے کی بجائے تضیع اوقات کے مرتکب ہوں اور اپنے وقتوں کو ضائع کرنے لگیں اس لئے آپ نے شروع ہی میں ہمیں یہ توجہ دلائی کہ یہ جلسہ عام انسانی میلوں کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ وہ اجتماع ہے جس کی بنیادی اینٹ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے لئے قومیں تیار کی گئی ہیں جو اس میں آکر مل جائیں گی۔پس اس وقت ایک کا نفرنس کی شکل میں تو ایک اجتماع ہوا تھا لیکن اس جلسہ کی ابھی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی۔( یہ ۱۸۹۱ ء اور ۱۸۹۲ء کے درمیانی عرصہ کی بات ہے ) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ اطلاع دی کہ میں اپنے دستِ قدرت سے اس اجتماع کی اینٹ رکھ رہا ہوں اور اپنی جماعت کو ہوشیار کر دو کہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے جو بنیادی اینٹ رکھی جائے اور اس پر جو عمارت بنے اس میں سوائے اللہ کے اور کوئی چیز بنی نہیں چاہیئے چنانچہ آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے خود جلسہ سالانہ کی بنیادی اینٹ رکھی ہے اور قومیں اس کے لئے تیار کی