خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 40
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبودیت کا اظہار کیا اس کی نظیر ہمیں کہیں نہیں ملتی آپ نے شروع دن سے ہی اپنے ماننے والوں کو خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی طرف توجہ دلائی اور ان کے ذہنوں میں پختگی کے ساتھ یہ ڈال دیا کہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف ہی جاتا ہے اور ہر چیز کا درجہ اور تمام فیوض کا منبع اس کی ذات ہے اور جب کوئی انسان اس کی طرف رُخ کر لیتا ہے تو پھر وہ کسی اور کی طرف اپنا رخ نہیں کرتا یا یوں کہو کہ اُسے کسی اور کی طرف رُخ نہیں کرنا چاہئے۔آپ نے دنیا میں یہ اعلان کیا کہ اگرچہ میں عبودیت کے ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہوں لیکن ہوں خدا تعالیٰ کا بندہ اس کا قرب اتم مجھے حاصل ہے اور قیامت تک اس نے صرف میرے ذریعہ سے ہی بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن جو فیوض بنی نوع انسان مجھ سے حاصل کریں گے وہ اس کے ارادہ اس کے اذن اور اس کے حکم کی وجہ سے حاصل کریں گے میری کسی ذاتی خوبی کی وجہ سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔آپ نے بار بار اٹھتے بیٹھتے اپنی مجالس میں اپنی نقاریر میں پھر بنی نوع انسان سے حسن سلوک کرتے ہوئے اپنی اداؤں سے، اپنے عمل سے اور اپنی عبادات سے آپ نے اپنے اردگرد کے رہنے والوں کے اندر تو حید کے سبق کو اس طرح رچا دیا اور اس کو دماغ کے اندر اس طرح مستحکم کر دیا کہ ان کے لئے اس راہ سے بھٹکنا ممکن ہی نہ رہا اور صرف یہی نہیں بلکہ آپ کے دل نے چاہا اور آپ نے سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ارفع مقام کی وجہ سے میرے ماننے والوں میں بعض گمراہ ہو جائیں۔تب آپ اور صرف آپ نے ہی یہ حکم دیا کہ دنیا کی پستی اور بلندی سے جب تم خدائے برتر وارفع کی تکبیر اور اس کی عظمت اور جلال کا نعرہ لگاؤ اللہ اکبر کی آواز فضا میں گونجے اور اشهد ان لا اله الا اللہ کا نعرہ لگایا جائے تو اس کے ساتھ ہی واشهد ان محمدا عبدہ ورسولہ کا نعرہ ضرور لگے۔یعنی جب بھی خدا تعالیٰ کی بزرگی اس کی برتری اس کی عظمت اور اس کے جلال کا نعرہ بلند ہو تو اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ حکم دیا کہ یہ نعرہ بھی بلند کرنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا ایک بندہ ہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔کتنا خیال تھا آپ کو خدا تعالیٰ کی توحید کا، کتنا پاس تھا آپ کو اپنی بندگی کا، کتنی محبت تھی آپ کو اپنے مقامِ عبودیت کے ساتھ کہ آپ اس بات کی تاکید پر تاکید کرتے چلے گئے اور سبق پر سبق سکھاتے چلے گئے کہ جہاں خدا تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہو وہاں آپ کے مقام عبودیت کا بھی اظہار ہو۔: