خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 461
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب تحریک جدید کے ہمارے کل چونسٹھ مبلغ کام کر رہے ہیں اور نائیجیریا کی جماعت نے وہاں کی حکومت کو یہ درخواست بھیج دی ہے کہ آپ کی تھولکس کو ایک سو پچاس کا کوٹہ دیتے ہیں ہم بھی ایک سو پچاس کا کوٹہ لیں گے۔یہ سوچا ہی نہیں کہ ہمیں کس پریشانی میں ڈال دیں گے لیکن اگر ہم دعا کریں اور بے حد عاجزانہ دعائیں کریں اور تدبیر کریں اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو پڑھتے رہتے ہیں وہ اپنے آپ کو وقف کر یں۔آج اگر پچاس کی ضرورت ہے تو پچاس احمدیوں کو قربانی کے میدان میں نکلنا چاہئے اگر ڈیڑھ سو کی ضرورت ہے تو ڈیڑھ سو کو نکلنا چاہیے۔یہ وقت پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وقت تو ہمیں ملا نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے کہ ہم بعد میں پیدا ہوئے۔اس وقت کوئی اکا دکا صحابی رہ گیا ہے۔اب دوسری نسل کے اوپر بھی کم ذمہ داری نہیں کیونکہ ابھی خلافت کا سلسلہ جاری ہے۔خدا کرے کہ جماعت اسلام کی اہل رہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کتنی مدد کرتا ہے۔لوگ تو اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں تم سنا کرو اور جنس دیا کرو۔میں بھی ہنس دیا کرتا ہوں۔مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ تمہیں کچھ پتہ ہی نہیں۔ایک شخص کو اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے میں اس تقریر کے آخر میں یا کل جیسا بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا ، بتاؤں گا کہ ایک سیکنڈ میں کیا بتایا اور کیا کر دکھایا۔پس جس کے کان میں خدا یہ کہہ رہا ہو کہ میں نے تمہیں اپنے لئے چن لیا۔جاؤ اور قربانی دو۔اب خدا نے جو اسے چن لیا تو اس نے سب کچھ پالیا۔اس لئے بشاشت کے ساتھ ہر قسم کی قربانی دے گا۔میں سچ کہتا ہوں اگر میرے جسم کے ایک سو پچاس ٹکڑے کر دیے جائیں اور وہاں وہ کام آجا ئیں تو میں اس کے لئے تیار رہوں۔لیکن اگر ایسا نہیں ہو سکتا اور یہ ناممکن ہے تو پھر وہ جو اجتماعی وجود ہے کہ خلیفہ وقت اور ساری جماعت ایک وجود کا حکم رکھتی ہے تو اس وجود کے ٹکڑے نکلنے چاہئیں اور مختلف جگہ چلے جائیں۔ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابراہیم نہیں کہہ دیا تھا۔آپ کو ابراہیمی پرندے بننا پڑے گا تب ہمارے کام پورے ہوں گے اور تب اپنے وقت پر اسلام جلد سے جلد غالب آئے گا۔اس لئے تیار ہو جاؤ اور دعائیں کرو۔