خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 35

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب ود احمد یہ جو ذیلی تنظیمیں آپ نے قائم فرمائی ہیں یہ سب ( بنیادی اور ذیلی تنظیمیں ) جب تک قائم رہیں گی اور جب تک ان کے اچھے اور خوش کن نتائج نکلتے رہیں گے ( اور ہم اپنے رب سے امید رکھتے ہیں کہ قیامت تک ان تنظیموں کے اچھے اور خوش کن نتائج نکلتے رہیں گے ) اس وقت تک حضرت مصلح موعود کا نام زندہ رہے گا اور دنیا عزت کے ساتھ آپ کو یاد کرتی رہے گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صدقہ جاریہ اور فیض جاری کے طور پر ہم کوئی اور سکیم نہ بنائیں چنانچہ اس خیال کے تحت دوستوں سے یہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ عام مالی قربانیوں کے علاوہ جو وہ کر رہے ہیں فضل عمر فاؤنڈیشن میں رقوم پیش کریں اور یہ رقوم وہ بشاشت اور اخلاص نیت کے ساتھ دیں اور اس دعا کے ساتھ دیں کہ اس فاؤنڈیشن سے اچھے نتائج نکلیں اور ان کا ثواب خدا تعالیٰ حضرت مصلح موعودؓ کو بھی پہنچائے اور ہمیں بھی پہنچائے جو یہ رقوم دینے والے ہیں۔کل اس تحریک کا یہاں اعلان ہوا تھا اور باہر کی جماعتوں پر ابھی اس تحریک کی اطلاع نہیں ہوئی۔صرف امراء وغیرہ نے ان دوستوں سے جو یہاں موجود تھے مشورہ کیا ہے باوجود اس کے اس وقت تک جو وعدے آچکے ہیں وہ قریباً پندرہ لاکھ کے ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ انشاء اللہ وعدوں کی مقدار پچیس لاکھ سے کہیں زیادہ تک پہنچ جائے گی پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک کی جماعتوں سے بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ کم و بیش پندرہ لاکھ روپیہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے جمع کریں گی۔ہم جو حضرت مصلح موعودؓ کی جسمانی اولادیں ہیں گو ہم سب جمع نہیں ہو سکے لیکن ہم میں سے کثر یہاں موجود تھے۔ہم نے (اس خیال کے ماتحت کہ حضور نے جو جائیداد بنائی تھی اس کے متعلق حضور کی نیت یہی تھی کہ اس سے دینی کام جاری کئے جائیں اور اپنے بچوں کو بھی حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں دنیوی فکروں سے اس لئے آزاد کرنا چاہتا ہوں کہ تا تم اپنے اوقات کو دین کی خدمت میں لگائے رکھو) مشورہ کر کے یہ طے کیا ہے کہ حضور کی جائیداد میں سے انشاء اللہ ایک لاکھ روپیہ اس فنڈ میں دیں گے۔دوست اس بات کا خیال رکھیں کہ گو اس تحریک کے لئے وعدے تو ابھی ہونے چاہیں لیکن ان کی ادائیگی تین سالا نہ قسطوں میں ہوسکتی ہے یعنی جو دوست چاہتے ہیں کہ اس میں زیادہ چندہ دیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اس ایک سال کے دوران وہ اس قدر رقم