خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 443
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار إِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (القلم:۴) دوسری بات یہ ثابت ہوگی۔ہماری جماعت بھی تحقیق کے میدان میں کام کرتی رہتی ہے اور نئی کتب شائع ہوتی رہتی ہیں۔دنیا میں بھی نئے سے نئے علوم نکلتے رہتے ہیں مثلاً ایک نیا علم نکلا ہے جس کو سائنس آف چانس (Science of chance) کہتے ہیں یعنی اتفاق کو مدون کر کے اس کا ایک علم بنا دیا۔یہ جو لوگ اتفاق اتفاق کہتے ہیں۔اس کی تدوین کر دی۔سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سائنس آف چانس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہر چیز اتفاقیہ ہوگئی۔سورج اتفاقیہ بن گیا ، زمین اتفاقیہ پیدا ہوگئی ، زمین سے سورج کا یہ فاصلہ اتفاقیہ ہو گیا ، جس محور اور زاویہ پر زمین چکر لگا رہی ہے یہ ایک اتفاقیہ بات ہوگئی ، چاند سے جو فاصلہ ہے وہ اتفاقیہ ہو گیا، دن رات کی جو عین ہے یعنی زمین کی رفتار یہ اتفاقیہ ہوگئی ، ہر چیز ہی اتفاقیہ ہو گئی اور ہزاروں لاکھوں شاید کروڑوں اربوں اتفاق اکٹھے ہوئے تب انسان کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اس زمین پر زندگی گزار سکے۔پس سائنس آف چانس سے انہوں نے ثابت کیا کہ اللہ ہے یعنی متصرف بالا رادہ خالق اپنی منشاء سے پیدا کرنے والی کوئی ذات ہے۔اتنے اتفاق اکٹھے نہیں ہو سکتے۔میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ اور بہت سی باتیں ہیں ، جو میں نے اس بے تکلف مجلس میں کہنی ہیں۔بہر حال ایک نئی سائنس نکلی لیکن بہتوں کو اس کا علم نہیں۔مجھے ایک پادری سیرالیون میں ملے تو سمجھے کہ مشرق سے کوئی مذہبی آدمی آگیا ہے۔دنیا کے علوم کا اس کو کیا پتہ ہے اُس نے کچھ ایسے ہی رنگ میں مجھ سے بات شروع کی۔میں تو ایک عاجز انسان ہوں اُس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ میں توحید کا نمائندہ اور یہ تثلیث کا نمائندہ ہے۔باوجود میری عاجزی اور انکساری کے جو میری طبیعت میں ہے یہ مجھ سے سبقت نہیں لے جا سکتا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں بالکل ہی ایک نا اہل انسان ہوں اللہ تعالیٰ کے سکھائے بغیر میں کچھ جانتا نہیں اور اُس کی طاقت اور مدد کے بغیر میں کچھ نہیں کر سکتا لیکن میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ اگر چہ یہ یورپ کا پڑھا ہوا اور وہاں کا بڑا پادری آرچ بشپ ہے لیکن اس کی یہ بات کہ اسلام کا ایک نمائندہ مشرق سے آیا ہے اور اسے کچھ پتہ نہیں ، قائم نہیں رہنی چاہیے۔چنانچہ میں نے اس سے سائنس آف چانس اور گلیکسی کے نئے علم کے متعلق باتیں شروع کیں۔یعنی بے شمار سورج اور ان کے گرد