خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 412

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب کہ یہ بھول تھی۔گناہ کا ارادہ نہیں تھا غرض قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس تہمت سے بری قرار دیا جو آپ پر لگائی گئی تھی۔حضرت نوح علیہ السلام پر تہمت لگانے والوں نے یہ تہمت لگائی کہ آپ نے شراب پی اور بدمست ہوئے اور اپنے ڈیرے میں برہنہ ہو گئے اور پھر وہ ساری بدنامی ساری قوم میں پھیلی لیکن اور میں ہوگئے اور پھر وہ قرآن کریم نے دنیا کو اور تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے کہا یہ تہمت غلط ہے۔یہ ایک اتہام ہے جو حضرت نوح علیہ السلام پر لگایا گیا ہے۔فرمایا سلمٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَلَمِيْنَ إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (القسمت : ۸۱،۸۰) یعنی وہ تو نیک اعمال کو پوری توجہ اور پورے زور اور شوق اور شغف کے ساتھ اور ہر قسم کی قربانیاں دے کر بجالانے والا تھا۔اس نے اپنی محبت کے نتیجہ میں اور محسن ہونے کی وجہ سے ہماری طرف سے سلامتی کو اور امن کو اور رضا کو اور میری جنتوں کو پایا تھا۔وہ بدمست کہاں ہو سکتا تھا وہ اپنے ڈیرہ میں برہنہ کیسے ہوسکتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی گئی ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو پکار کر یہ کہا: إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ( مريم :۴۲) یعنی وہ تو راست بازی پر قائم تھا اور دوسروں کو راست بازی پر قائم کرنے کے لئے آیا تھا؟ پھر وہ خود راست بازی کے طریق کو کیسے چھوڑ سکتا تھا فرمایا وہ صرف صدیق ہی نہیں تھا بلکہ نبی تھا یعنی وہ دوسروں کو بھی راہ راست پر اور کچی بات کرنے پر قائم کرنے آیا تھا وہ عام معاشرے کی ہدایتیں دوسروں کو سکھانے آیا تھا پھر وہ خود اس راستہ سے کیسے ہٹ سکتا تھا۔حضرت لوط علیہ السلام پر یہ بہتان باندھا گیا کہ ان کی دو بیٹیاں ان سے حاملہ ہوئیں (نعوذ باللہ ) قرآن کریم میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان کروایا گیا: وَلُوطًا أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَ نَجَّيْنَهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبيثَ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَسِقِيْنَ (الانبياء : ۷۵) یعنی ہم نے لوط کو قوت فیصلہ اور علم روحانی عطا کیا تھا۔قرآن کریم نے یہ اعلان کروایا کہ وہ ل پیدائش باب ۹ آیت ۲۰ ۲۱ ۲، پیدائش باب ۱۲ آیت ۱۱ تا ۱۳ ۳ پیدائش باب ۲۰ آیت ۳۲ تا ۳۸