خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 410
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۰ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب ایک روحانی فرزند تھا اور دنیا کی ساری قوموں کو یہ کہا کہ ان تمام انبیاء پر ایمان لانا اب فرض ہو گیا ہے۔پہلے ان پر ایمان لانے کی اس لئے ضرورت نہیں تھی کہ یہ مختلف خطوں میں بسنے والی اقوام کے لئے ہدایت لے کر نہیں آئے۔ہر ایک قوم کی اپنی ضرورت تھی ہر ایک قوم کے اپنے حالات تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس زمانہ کے ہندو ایمان لاتے تو وہ تباہ ہو جاتے جن کو حضرت عیسی علیہ السلام کے عفو کی ضرورت تھی۔وہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم پر ایمان لاتے تو اس زمانہ کے لحاظ سے وہ بھی تباہ ہو جاتے۔غرض ہر نبی جو آیا وہ ایک صداقت لے کر آیا لیکن اس کی قوم کے حالات دنیا کی ہر دوسری قوم سے اتنے مختلف تھے کہ دوسری اقوام عالم کو خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ ہیں تو یہ نبی مگر اس کی شریعت اور ہدایت پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ تمہارے حالات کے مطابق نہیں ہیں تمہارے لئے ایک اور نبی بھیجیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں آکر اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے تو یہ کہا تھا کہ ان پر ایمان نہیں لانا یعنی ان کی لائی ہوئی ہدایت پر عمل کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں لیکن بہر حال انہیں خدا تعالیٰ کے بچے انبیاء توسمجھنا چاہئے دنیا کی اقوام نے انہیں جھوٹا قرار دیا تھا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں آکر ان کیا کہ خدا تعالیٰ کی بات کی جو روح تھی وہ تم نے نہیں پائی۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ ان انبیاء کو جھوٹا کہو بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ ان کی شریعت تمہارے مناسب حال نہیں ہے لہذا تمہیں ان پر ایمان لانا ضروری نہیں۔تمہارے مناسب حال دوسری شریعت بھیجی جائے گی لیکن شیطان نے تمہیں ورغلایا اور تم نے خدا تعالیٰ کے بزرگ بندوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم فرزند کو جھٹلا دیا اور ان کو کافر اور دجال اور پتہ نہیں تم کیا کچھ کہنے لگ گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی تمام اقوام عالم کو مخاطب کر کے یہ اعلان کیا کہ یہ تمام انبیاء بیچے تھے۔یہ تمام خدا تعالیٰ کے برگزیدہ تھے۔میں کامل اور مکمل ہدایت لے کر آیا ہوں اب میری پیروی تمہیں نجات دلا سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول تمہارے لئے ممکن بنا سکتی ہے لیکن اگر تم نے میری پیروی کرنی ہے تو تمہیں ان تمام انبیاء کوسچا سمجھنا پڑے گا۔دوسرے ان عظیم بندوں پر جو اللہ تعالیٰ کے بڑے بزرگ بندے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ احسان کیا اور یہ بڑا عجیب احسان ہے کہ پہلے انبیاء کی اقوام میں سے جو منکر ہوئے تھے