خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 396
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۶ میں اسے بیان کرسکوں اس کو اسی طرح بیان کر دوں۔۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب قرآن کریم نے یہاں ان آیات میں ایک مثال کے ذریعہ حقیقت محمدیہ کو بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس طرح سمجھ لو کہ دو قوسیں ہیں ان میں سے جو قوس اعلیٰ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر مشتمل ہے یا ان کی علامت ہے جو شیہی صفات ہیں اور جن کا تعلق ہمارے اس عالم سے ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں اور پھر ان صفات کے جلوے غیر محدود ہیں۔کسی مادی مثال میں تو ہم اسے بیان نہیں کر سکتے لیکن اس عالمین میں اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات جلوہ گر ہیں۔اس کی ساری صفات جلوہ گر نہیں اور پھر ان بعض صفات کے بھی سارے منصوبے نہیں بلکہ ان کے بھی یہاں کچھ جلوے ہیں کیونکہ ان صفات کے جلوے بھی بالکل یقینی طور پر غیر محدود ہیں لیکن بہر حال ہم نے اس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے اور اس کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یوں سمجھ لو کہ میری وہ صفات جو شبیہی ہیں اور جن کا تعلق تمہاری اس دنیا اور تمہارے اس جہان سے ہے ان میں سے میری بعض صفات کے جو جلوے ہیں وہ اس طرح ہیں جس طرح ایک قوس۔اور یہ جو تمہاری کا ئنات ہے وہ ساری ایک دوسری قوس یعنی کمان کی مثال ہے جو نیچے کی طرف ہے۔اس دنیا کی قوس نے جس چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اس کا وجود ممکن ہی نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات سے وہ فیوض حاصل نہ کرے۔پس ہر چیز اپنے وجود پذیر ہونے میں یعنی خلق ہونے میں، پیدا ہونے اور اپنے قائم رہنے میں مسلسل اور بغیر کسی انقطاع کے اللہ تعالیٰ کے جلوؤں کی محتاج ہے اس کے بغیر وہ قائم نہیں رہ سکتا اور رب العالمین کے یہی معنے ہیں۔غرض مخلوق کے وجود اس کے خلق اور اس کی بقاء کے لئے ربوبیت کے غیر متناہی اور مسلسل جلوؤں کی ضرورت ہے اور اگر ایک لحظہ کے لئے بھی اس کا ئنات سے رب العالمین کے یہ جلوے چھپا دیے جائیں تو قیامت آ جائے۔انہیلیشن (Annihilation)، ہر چیز مٹ جائے۔فرمایا یہ مخلوق جو ہے یہ کائنات جو ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسی ایک قوس۔یعنی ایک نصف دائرہ ہے ایک کمان ہے جس نے نچلی طرف ساری کائنات کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے اور اس کے اوپر ایک اور قوس ہے جس نے اپنے احاطہ میں اللہ تعالیٰ کی ان تمام تشبیہی صفات کے جلوؤں کو لیا ہوا ہے جو اس کا ئنات سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بغیر اس کا وجود اور قیام اور دوسری