خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 378
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا سامنے مشرقی افریقہ کے نام سے تو مشرقی افریقہ کی جماعت متعارف تھی لیکن ان میں مقامی آدمی تھا ہی نہیں یا نہ ہونے کے برابر تھا۔اب جب وہاں سے لوگ بھاگنے شروع ہوئے حکومت بدل گئی پس جماعت ختم ہونی شروع ہو گئی ہے چنانچہ دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ ایک ملک جس میں اتنی کثرت سے احمدی پائے جاتے تھے اور ان کا اتنا چندہ ہوتا تھا۔یکدم جماعت کے سامنے یہ چیز آجائے گی کہ وہاں نہ ہمارے آدمی رہے نہ ان کا چندہ رہا جماعت ہی ختم ہوگئی۔چنانچہ میرا آپ کے سامنے اس بات کو بیان کرنے کا یہ پہلا موقع ہے بہت دعائیں کریں مجھے اللہ تعالیٰ نے دعائیں کرنے کی توفیق دی۔اصل میں تو وہی ہے جو دعاؤں کو بھی سنتا ہے اور بغیر دعاؤں کے بھی ہمارے کام کرتا ہے۔ہمارے کیا کام کرتا ہے اسی کے یہ سارے کام ہیں۔مشرقی افریقہ میں ان دنوں مقامی حبشیوں کو احمدیت میں داخل ہونے کی توجہ پیدا ہوگئی ہے اور اکسٹھ سے بھی زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں۔کچھ ان دنوں میں آئیں وہ شاید اس میں شامل نہیں۔بعض جگہ تو گاؤں کے گاؤں احمدی ہو گئے ہیں۔تنزانیہ میں زیادہ ہیں یوگنڈا میں پھر اس سے کم اور کینیا میں اس سے کم۔لیکن کینیا میں اب حالات ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ ساحل سمندر پر غالباً مقامی لوگوں کی جماعتیں پیدا ہو جائیں گی۔آپ دعائیں کرتے رہیں۔اسی طرح یورپ جہاں میں نے بتایا ہے کہ ایک دفعہ غالباً ۱۹۲۹ء کی بات ہے آٹھ دس سال میں جا کر ایک یورپین احمدی ہوا تھا اور وہ جماعت جس میں وہ شامل ہوا تھا ( آپ سمجھ گئے ہیں میں دوسروں کے نام نہیں لیا کرتا ) انہوں نے ایک جلسہ کیا اور بڑا ہنگامہ اور شور برپا کیا۔میں بھی وہاں گیا تھا۔اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یورپ میں چھپن بیعتیں ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ امریکہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیاسی بیعتیں ہوئی ہیں۔مشارق وسطی میں جہاں Iron curtain ( یعنی آھنی پردہ) تو نہیں لیکن اور بہت سخت دیوار بنائی گئی ہے ان عربی بولنے والے ممالک میں کثرت سے جماعتیں پیدا ہو رہی ہیں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے حالانکہ وہاں نام بھی نہیں ظاہر کر سکتے تبلیغ بھی نہیں کر سکتے۔یہاں سے اگر کسی کو کتابیں بھجوائیں تو سنسر والے ان کو رکھ لیتے ہیں لیکن آسمان کے دروازے بند نہیں کئے جاسکتے نہ آسمان کے فرشتوں کے نزول پر کوئی پابندی لگائی جاسکتی ہے۔