خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 374
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۷۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب اس وقت تک کل بیاسی مرکزی مبلغین غیر ممالک میں کام کر رہے ہیں۔کچھ تو یہاں بھی ہوتے ہیں لیکن جو اس وقت عملاً کام کر رہے ہیں۔ان کی تعداد بیاسی ہے۔لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہائیوں کی بجائے سینکڑوں کی باتیں کیا کریں اس لئے اس کا جلد سے جلد انتظام ہونا چاہئے۔یہ ایک دو سال کا کام نہیں۔جماعت یہ انتظام کر سکتی ہے صدر انجمن احمدیہ کا یہ کام نہیں ہے۔جماعت یہ انتظام کرے کہ اس کثرت سے بچے جامعہ احمدیہ میں داخل ہوں کہ ٹوٹنے کے بعد بھی سینکڑوں کی تعداد میں مبلغین تیار ہوں۔یہ قانون قدرت ہے کہ کچھ بچے ٹوٹ جائیں گے کسی کا اخلاص ترقی نہیں کرے گا کسی کا ذہن ترقی نہیں کرے گا۔کسی کا علم ترقی نہیں کرے گا۔کسی کے ماحول کے حالات ایسے ہوں گے کہ اسے ہم خوشی سے کہیں گے کہ تمہارا ماحول ایسا ہو گیا ہے تمہارے گھر کے حالات ایسے ہیں کہ تم اب وقف میں نہ رہو ہم تمہیں خوشی سے اجازت دیتے ہیں کہ تم چلے جاؤ۔غرض مختلف شکلوں میں یہ چیز سامنے آتی ہے لیکن ٹوٹنے والے جب ٹوٹ جائیں تو اس وقت بھی ہمارے پاس سینکڑوں کی تعداد میں شاہد پڑھے لکھے تجربہ کار ٹرینڈ تعلیم یافتہ مبلغ ہونے چاہیں اس کے بغیر آج ہمارا گزارہ ہی نہیں۔یہ مطالبہ زبان قال اور زبانِ حال ہر دو سے اتنا شدید ہے کہ آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔مثلاً انڈونیشیا میں ہماری جماعت ہے ایک وقت میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے یہاں جماعت کو سنبھالنا ہے اس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو ہمیں دس مبلغ بھجوائیں۔ایک ملک سے ایک وقت میں دس مبلغین کا مطالبہ تھا مگر پہلے وہاں بڑی روکیں تھیں ان کا مطالبہ آتا تھا ہم خوش ہو جاتے تھے کہ ہماری کمزوری پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا ہے وہاں مبلغ جاہی نہیں سکتا۔یہ اصرار نہیں کر سکتے البتہ خواہش کا اظہار ہے جو کر دیتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان ! پیدا کئے کہ وہاں کے بعض افسر بدلے اور ایک ایسا افسر آ گیا جس نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دیتا؟ ہوں۔جتنے چاہو مبلغ یہاں بھیجو۔تو انہوں نے ڈرتے ڈرتے چھ کی اجازت مانگی چنانچہ وہاں سے ان کی اجازت آ گئی۔اس وقت تک پانچ وہاں پہنچ چکے ہیں۔الحمد اللہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے۔ابھی چند مہینے نہیں ہوئے ہیں ابھی دو مہینے ہی ہوئے ہیں مولوی محمد صادق صاحب کو گئے اور بیسیوں خطوط عورتوں اور بچوں کی طرف سے ، نوجوانوں اور بوڑھوں کی طرف سے میرے پاس آئے ہیں کہ آپ نے ہم پر بڑا ہی احسان کیا ہے ہماری تربیت خراب ہو رہی تھی۔ہمارے پاس