خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 27
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطا۔میں صرف ایک واقعہ بیان کرتا ہوں یہ واقعہ مجھ سے ایک ایسے افسر نے بیان کیا جو خود اس کا گواہ ہے اور میں اسے وثوق کے ساتھ بیان کر سکتا ہوں۔انہوں نے بیان کیا کہ ایک محاذ پر شروع شروع میں چار بٹالین بھارتی فوج ہمارے علاقہ میں گھس آئی اور ہمارے ایک وسیع رقبہ پر انہوں نے قبضہ کر لیا ان کے سامنے اس وقت ہماری صرف ایک فوج بٹالین تھی۔گویا دشمن کی فوجوں اور ہماری فوجوں کے درمیان ایک چار کی نسبت تھی ایک دن ہماری اس بٹالین کو حکم ملا کہ بھارت کی چار بٹالین فوج پر حملہ کر کے اپنا علاقہ خالی کروا لو ہماری اس بٹالین کے پیچھے بھی کوئی فوج نہیں تھی جو وقت پڑنے پر مدد کر سکے لیکن حکم تھا کہ حملہ کر دو چنانچہ اس بٹالین نے بھارتی فوج پر حملہ کر دیا۔س حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن کی چار بٹالین فوج میں سے دو بٹالین فوج یا تو ماری گئی یا زخمی ہوئی اور بعض فوجی قیدی بنالئے گئے باقی دو بٹالین فوج بھاگ گئی اور ہمارا علاقہ خالی ہو گیا عجیب بات یہ تھی کہ ہماری بٹالین کا ایک آدمی بھی نہ مارا گیا یہ تو عملاً ایک معجزہ تھا جو ان لوگوں نے دیکھا لیکن اس سے بڑھ کر ایک اور بات ہوئی وہ دوست بتاتے ہیں کہ جو لوگ قیدی بنائے گئے ان کو پیچھے لانے کے لئے میری ڈیوٹی تھی ان قیدیوں میں ایک ہندو افسر تھا۔جس کا عہدہ میجر کا تھا اس کو میں نے از راہ مذاق کہا کہ تمہیں کیا ہو گیا تھا تمہارے پاس چار بٹالین تھی لیکن تم اس ایک بٹالین کے حملہ کی بھی تاب نہ لا سکے۔تمہاری آدھی فوج ماری گئی یا قیدی بنائی گئی اور آدھی فوج بھاگ گئی اس پر وہ ہندو افسر کہنے لگا کہ جیتنے کے بعد ایسی ہی باتیں کی جاتی ہیں ہم پر تمہاری پانچ بٹالین نے حملہ کیا تھا۔وہ دوست کہتے ہیں میں نے سارا راستہ انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ہماری فوج اور تمہاری فوج میں ایک اور چار کی نسبت تھی مگر وہ نہ مانا تب مجھے خدا تعالیٰ کا یہ کلام یاد آیا کہ جنگ کے میدان میں تمہاری تعداد دشمن کو خوب بڑھ چڑھ کر دکھائی جاتی ہے اور آسمان سے مدد کے لئے فرشتے نازل کئے جاتے ہیں اور میدانی ، فضائی اور سمندری جنگوں میں مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت، اپنی اخوت اور اتحاد اور باطنی طاقت کے ایسے ہزاروں جلوے دیکھے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ان دنوں ہم پر اور ہماری ساری قوم پر ہوا۔دوسر افضل جو خدا تعالیٰ نے ان دنوں ہم پر اور ہماری قوم پر کیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔