خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 340
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب وجوہات کی بناء پر انہیں کم روشن پایا لیکن ہر آنکھ نے ہر پتھر میں اسی چراغ کی روشنی کو دیکھا۔تو میں بتا رہا ہوں کہ عالم قضاء وقدر کے مطابق عالم موجودات کے جوموجودات ہیں وہ معرض وجود میں آتے ہیں۔یہ ایک مثال ہے۔تو قران کریم نے سورہ نجم کی آیات میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ عالم قضاء وقدر میں یہ تو ایک انسان، محدود دنیا، ناقص دنیا، سارے منصوبے کامیاب بھی نہیں ہوتے اس دنیا کی مثالیں ہم دے سکتے ہیں میں نے دی ہیں اپنی طرف سے کوشش کی ہے کہ کچھ بات واضح ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات تو قدرتوں والی ذات ہے۔اس نے عالم قضاء وقدر میں ہماری اس عالم موجودات کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد کاملہ کا ایک وجود پیدا ہوگا جو الوہیت کا مظہر اتم بنے گا یعنی اللہ نے عالم قضاء وقد ر میں فیصلہ کیا کہ میں اپنی صفات کا مظہر اتم ایک وجود پیدا کرنا چاہتا ہوں اور اس کے لئے یہ انتظام کیا کہ ایک دنیا کو جس کا تصور بھی ہمارے دماغ میں نہیں آسکتا پیدا کیا اور جس جس چیز کو بھی پیدا کیا ایک نوع ایسی پیدا کی کہ ان کی خدمت میں اس کو لگا دیا۔بنی نوع انسان کے لئے عالم کو مسخر کر دیا اور اس نے بنی نوع انسان کا انتظام کیا۔مادی دنیا میں بھی ایسا انتظام کیا کہ جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ پکنے کے لئے بعض ستاروں کی روشنی حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اس زمین پر پہنچ کر ان کی تربیت میں حصہ نہ لے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہنچ کر اور آپ کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے وہ روشنی مادی دنیا میں بھی اس سے زیادہ اور بہتر تغیر پیدا کرے۔ستاروں کی جو روشنیاں اس سے پہلے اس دنیا میں تغیر پیدا کرتی تھیں سارے تغیر ہی انسان کی خدمت میں لگے ہوئے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے تغیرات بہتر شکل میں تھے۔تو اللہ تعالیٰ نے ساری مادی دنیا کو اس لئے پیدا کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی غذا مقدار کے لحاظ سے نہیں کیونکہ خدا کے بندے زیادہ نہیں کھایا کرتے لیکن اپنی چھپی ہوئی صفات کے لحاظ سے چھپی ہوئی میں اس لئے کہتا ہوں کہ ابھی انسان با وجود بہت کچھ حاصل کرنے کے ان باریکیوں پر جو خدا کی کتاب ہمیں بتاتی ہے یا جن کی طرف وہ اشارہ کر رہی ہے اُن کا علم حاصل نہیں کیا تو غذا کی چھپی ہوئی صفات اس قدر بہتر ہو جائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اب بریکٹ