خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 330 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 330

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب بہادر کی مانند نکلے گا یہ بھی بطور استعارہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پر ہیبت ظہور کا اظہار کر رہا ہے۔دیکھ یسعیاہ نبی کی کتاب باب بیالیس اور ایسا ہی اور کئی نبیوں نے بھی اس 66 استعارہ کو اپنی پیشگوئیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں استعمال کیا ہے۔“ توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۶، ۶۷) حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی تک جتنے انبیاء بھی گذرے ہیں جن کی کتب وغیرہ کا ہمیں اس وقت کچھ نہ کچھ علم ہے کلی طور پر وہ منسوخ نہیں ہو گئیں اور انسانی تاریخ اور انسانی ذہن سے محو نہیں کر دی گئیں ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے اور اکثر میں اسی رنگ میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ آپ کا آنا خدا کا آنا قرار دیا گیا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے سلسلہ نبوت شروع ہوا لیکن اس زمانہ کا کوئی لٹریچر نہیں ایک لفظ ہی محفوظ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ بعض باتیں حضرت آدم علیہ السلام سے تعلق رکھنے والی انبیاء کی زبان سے محفوظ رکھیں اور جب کتابیں شائع ہونی شروع ہو گئیں تو وہ کتابوں میں محفوظ کر دی گئیں۔پھر میرے دل جب یہ شوق پیدا ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی گواہی بھی۔چاہئے۔اب دراصل میں ایک اور شہادت پر آچکا ہوں۔پہلے روایت کی شہادت تھی پھر درایت کی شہادت نمبر ایک علمائے اسلام کی شہادت کہ وہ حدیث صحیح ہے۔اس کے بعد آگئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت۔پھر اب آگئی ہے انبیاء سابقہ کی شہادت کہ انہوں نے بھی اس مفہوم کو درست سمجھا ہے اور اسے بیان کیا ہے اور محفوظ رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ وہ محفوظ ہو گئی تو جب میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی شہادت ہمیں مل جائے حضرت عیسی کی تو مل جائے گی۔تو پہلے نبی کی بھی مل جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء گذر ہیں تو صفائی ہو جائے گی۔سارے انبیاء کا طریق یہ رہا ہے جیسا کہ ہمیں اوروں کی بھی ملی۔اس سلسلہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی شہادت انبیاء کے سینوں میں محفوظ رکھی اور حضرت میٹی کے ذریعہ کتابی شکل میں اسے محفوظ کر دیا چنانچہ انجیل میں جو برنباس کی انجیل ہے۔اب ہمارے عیسائی دوست گھبراتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بحث