خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 303
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٠٣ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب خلافت حقہ کا حق ادا کرنے والے انسان کامل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَمَه شَدِيدُ الْقُوَى ذُومِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالأفق الأعلى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ ما أوحى (النجم : ۴ تا ۱۱) پھر حضور انور نے فرمایا:۔قبل اس کے کہ میں آج کا مضمون شروع کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ سب جماعت کی طرف سے ان بہنوں کا شکریہ ادا کروں جنہوں نے بے وقت اور فوری اطلاع پر آج صبح خدمت سلسلہ کا ایک بڑا ہی اچھا کام کیا۔بات یوں ہوئی کہ صبح پانچ بجے کے قریب جلسہ سالانہ کے منتظمین نے یہ محسوس کیا ہے کہ روٹی کی تعداد میں کمی واقع ہو جائے گی اور انہوں نے اذان سے بھی آدھ گھنٹہ قبل صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ کو یہ اطلاع دی کہ جو ہنگامی حالات کے لئے انتظام ہے لوہ پر اور چھوٹی تندور یوں پر رضا کارانہ طور پر مستورات روٹیاں پکائیں۔اس انتظام کے ماتحت آپ جس حد تک روٹیاں پکوا کر دے سکتی ہوں دیں۔گزشتہ سال کے تجربہ کی وجہ سے ہمارا انتظام یہ تھا کہ ہم نے مختلف جگہوں پر مختلف طریقوں پر ہنگامی حالات کے مطابق ہنگامی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے روٹی پکانے کا انتظام کیا ہوا ہے جس میں سے ایک یہ حصہ ہے چنانچہ جو منتظمین تھے انہوں نے ان تنوریوں یا تندوریوں میں لکڑیاں ڈال کر آگ جلا دی اور لوہ کے جو چولہے ہوتے ہیں ان کے نیچے بھی آگ جلا دی اور یہ اطلاع انہوں نے دے دی نصف گھنٹہ کے اندر اندر ہماری مستعد اور