خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 290
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۰ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔فائدہ پہنچے گا۔لیکن جو تاریخ دان ہیں اور تاریخ کے لحاظ سے تحقیق کرنے والے ہیں وہ بیشک دوسری باتوں میں دلچسپی لیں ان کے لئے یہ بات مفید ہوگی۔غرض پہلی غلطیوں کو یا درکھنا نہ ہمارے لئے مفید ہے اور نہ ہمیں ان کی ضرورت ہے لیکن پہلے لوگوں نے اسلام اور قرآن کے روحانی سمندر میں غوطے لگا کر جو موتی نکالے وہ آج بھی بڑے قیمتی ہیں۔ہمیں ان کی کتابیں دیکھنی چاہیں۔بڑی بڑی عجیب باتیں ہیں جو پہلوں نے لکھی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید میں لکھی ہیں۔چند کتابوں کا ہمیں اب پتہ چلا ہے ان میں بڑی مفید باتیں درج ہیں۔پچھلی صدی میں غانا ( مغربی افریقہ ) میں ایک مجدد پیدا ہوئے۔انہوں نے بعض ان سوالات کو حل کر دیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ہونے تھے اور یہ ایک کام تھا جو وہ کر گئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدی اور مسیح کے آنے کا قصہ ہی ایک افسانہ ہے۔حمید و فریدی کی کتابیں پڑھ کے ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو گیا ہے انہوں نے ( غانا میں پیدا ہونے والے پچھلی صدی کے مجدد) نے رستہ صاف کر دیا۔ان پر اعتراض ہوا کہ تم امام مہدی ہونے کا دعوی کرتے ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ نہ میں نے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے اور نہ میں امام مہدی ہونے کا دعوی کر سکتا ہوں کیونکہ جو علامات امام مہدی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ میرے وجود میں پوری نہیں ہوئیں۔مثلاً ایک علامت یہ ہے کہ امام مہدی کے زمانہ میں ماہ رمضان میں معینہ تاریخوں میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگے گا۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی علامات ہیں جو امام مہدی کی بیان کی گئی ہیں۔انہوں نے یہ بتایا کہ امام مہدی جس کا تم انتظار کر رہے ہو اس کی علامات میرے وجود میں پوری نہیں ہوئیں اس لئے میں امام مہدی ہونے کا دعوا ہی نہیں کر سکتا لیکن ایک بات بتا دیتا ہوں کہ ہم اس زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں امام مہدی کا ظہور ہونا ہے۔اب ان سے کوئی پوچھے کہ ان کے کہنے کے مطابق جب ایک مجدد یہ کہتا ہے کہ ہم اس آخری زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں امام مہدی کا ظہور ہونا ہے تو اس کے معنے اس کے سوا کوئی نہیں کہ اس صدی کے اندر امام مہدی کا ظہور ہوگا۔کیونکہ اس کا ظہور ا گلے مجدد کے زمانہ ہی میں ہوگا اور اس کا زمانہ آ گیا ہے اب ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے جو اس مجدد کے متبعین ہیں کہ اگلی صدی