خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 280
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطا۔ہیں اور ہماری کتابوں کو پڑھ لیتے ہیں لیکن جاپان کی یہ حالت نہیں۔ان کو تو ہمیں ان کی اپنی زبان ہی میں سمجھانا پڑے گا اور اس کے اوپر وقت بھی خرچ ہو گا اور پیسے بھی خرچ ہوں گے لیکن خدا تعالیٰ کا جو قانون اس مادی دنیا میں ہے وہ یہ ہے کہ درجہ بدرجہ ترقی ہوتی رہے۔تدریجی ارتقا کا اصول چلتا ہے۔میں یہ چاہتا ہوں۔ہم انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اگلے مالی سال میں (کیلنڈر ایئر میں نہیں کہ جو جنوری سے شروع ہوتا ہے بلکہ اپنے مالی سال میں جو یکم مئی سے شروع ہوتا ہے) وہاں اپنا مشن کھولیں جو دو آدمیوں پر مشتمل ہو اورس کے لئے جو روپیہ کی ضرورت ہوگی وہ میں دیکھوں گا۔اللہ تعالیٰ نے جو تد بیر بھی ذہن میں ڈالی۔اس کی منشا اور اس کی برکت اور اس سے دعاؤں کے ساتھ اس تحریک کو جاری کر دوں گا۔یہ کام میں بعد میں کروں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو ہو کر رہے گا لیکن اس وقت جماعت یہاں کثرت سے آئی ہوئی ہے۔دیہاتی بھی اور شہری بھی۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جاپان کی قوم اسلام کی تعلیم کو سننے کے لئے تیار معلوم ہوتی ہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ان کی اس روحانی پیاس کو بجھائیں اور اس کے لئے ہمارے امکان میں جو تد بیر بھی ہے وہ کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں ان پر بھی اسی طرح کھلیں جس طرح اس کے فضل نے ان راہوں کو ہم پر کھولا ہے اس کے لئے جو خرچ ہوگا جس طرح اس کی آمد ہوگی وہ سکیم بعد میں جماعت کے سامنے رکھوں گا اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان پیدا کرے گا۔پھر آپ یہ دعائیں کریں کہ جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں وہ اقوام یا ان اقوام کے گروہ اور جماعتیں جو اسلام سے بیگانہ یا بے نیاز یا اسلام سے تعصب رکھنے والی تھیں اور بہت سے مقامات پر ایک سال میں ہم نے ان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا ہوتے دیکھی اسی طرح جاپان میں بھی ہو۔لیکن یہ پہلے دن سے ہو جائے جب ہمار۔وہاں جائیں تو ان کے دل کھل جائیں اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیوی فراست ، عقل اور ہمت دی ہے اور کام کرنے کے طریق سکھائے ہیں اس نے یہ چیزیں ان کو دی ہیں۔تو خدا کرے کہ مذہب اور دین اور اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور توحید باری بھی انہیں ملے تا کہ وہ صرف دنیا میں ترقی کرنے والے نہ ہوں بلکہ اسی دنیا کی جو جنتیں ہیں ان میں بھی وہ ترقی کریں اور خدا تعالیٰ کے برگزیدہ انسانوں میں اٹھائے جائیں۔