خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 279

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۹ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار کے ساتھ قائم ہو جائے لیکن ہماری عقل کہتی ہے کہ یہ کام بڑا مشکل ہے۔اس لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایک ایسا ایثار پیشہ دعائیں کرنے والا اپنے ربّ سے پہنی تعلق رکھنے والا اور اپنے خدا کے زندہ جلوؤں کو اپنی زندگی میں دیکھنے والا مخلص مبلغ مل جائے جسے ہم جب وہاں بھیجیں تو وہ اپنا ایسا نمونہ جاپانیوں کے سامنے رکھے کہ جو ان کے دلوں کو موہ لے اور ان کے لئے برکتوں کے سامان پیدا ہو جائیں۔چونکہ وہ ایک بڑا ملک ہے اور اسلام کے لئے فضا وہاں پیدا ہو گئی ہے۔اس لئے وہاں ایک آدمی کافی نہیں۔اگر ہم نے وہاں پھیلنا ہے تو ایک سے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ایک آدمی اس لئے بھی کافی نہیں کہ وہاں کی زبان مشکل ہے یعنی ایک شخص جس کو زبان سیکھنے کا ملکہ ہو وہ جرمن زبان آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔سپینش زبان آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔انگریزی زبان آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔سکنڈے نیویا میں جو مختلف زبانیں تھوڑے سے فرق کے ساتھ بولی جاتی ہیں وہ آسانی سے سیکھ لیتا ہے اٹالین سیکھ لیتا ہے لیکن ایسے انسان کے لئے جاپانی زبان کا سیکھنا نسبتاً مشکل ہے اس کے لئے ہمیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔زیادہ کوشش کرنی پڑے گی۔زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔پس کم از کم ایک مخلص نو جوان بھی وہاں جانا چاہئے جو اپنا زیادہ وقت زبان سیکھنے پر خرچ کرے۔ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں کو بھی بدلے گا اور میرا دل تو اس کے فضل سے اسی کے ہاتھ میں ہے۔میرے دل میں تو کبھی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے جو کام کرنا ہے وہ بہر حال کرنا ہے۔ویسے فکر کرنا ہمارا کام نہیں۔ہاں ہمارا یہ کام ضرور ہے کہ جو پیسہ ہمیں مل جائے اس کے متعلق یہ فکر کریں کہ اس میں سے ایک دھیلا بھی ضائع نہ ہو۔لیکن ہمارا یہ کام نہیں کہ سوچیں کہ یہ خدا کا کام تو۔لیکن خدا اس کے لئے پیسے مہیا نہیں کرے گا اور نہ اس کا ہمارے ساتھ یہ سلوک ہے۔دوسرے وہاں لٹریچر بعض کتب رسالے وغیرہ اور قرآن کریم کے ترجمہ کی کمی ہے۔یہ ملک دوسرے ممالک سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ مثلاً جرمنی میں اسی فیصدی آبادی انگریزی زبان سمجھ لیتی ہے یا فرانسیسی زبان سمجھ لیتی ہے یہی حال فرانس کا ہے اور ہمارا زیادہ لٹریچر انگریزی زبان میں ہے۔زیادہ تر کتب انگریزی میں ہیں اور وہ لوگ بڑی کثرت سے انگریزی سمجھ لیتے