خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 277

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار آور ہونے کے لئے خرچ نہیں کر سکتے لیکن جو نتیجہ نکل رہا ہے۔وہ اس کے مقابلہ میں اتنا شاندار ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے حال یہ ہے کہ افریقہ کے ایک ملک میں ایک صاحب غالباً بیلیجم کے رہنے والے تھے۔وہ پادری کی حیثیت میں وہاں آئے اور باون سال تک انہوں نے وہاں یسوع مسیح کی منادی کی اور باون سال کی منادی کے بعد جب وہ بوڑھے ہو کر کہ جب ساری امنگیں ختم ہو جاتی ہیں اور انسان کو اپنا مستقبل اندھیر انظر آتا ہے اپنے ملک کو واپس جانے لگے تو کسی اور کو بھی نہیں ہمارے مبلغ کو انہوں نے کہا کہ باون سال کی کوشش کے نتیجہ میں صحیح معنی میں میں صرف ایک عیسائی کر سکا ہون ہمارے مبلغ نے انہیں کہا کہ خدا کا فضل ہے کہ چند سال میں ہزاورں فدائی اسلام کے اس ملک میں پیدا ہو گئے ہیں۔اب دیکھیں باون سال کی کوشش اور ہمارے مقابلہ میں کئی سو گنا زیادہ اموال کا خرچ اور نتیجہ ایک اور دس کا نہیں ایک اور سو کا مقابلہ بھی نہیں بلکہ اگر ہمیں خدا نے دس ہزار دیا تو شاید ان کو ایک دیا ہو۔ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں دس ہزار سے بھی زیادہ دیا۔غرض خدا تعالیٰ کی راہ میں جو تکلیفیں آتی ہیں وہ تکالیف ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی عید کی خوشیوں میں کوئی کدورت اور کوئی اندھیرا نہیں پیدا کرتیں۔کوئی بدمزگی نہیں پیدا کرتیں۔ہماری عید کی خوشیاں اسی طرح قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے قائم رکھی جاتی ہیں۔اس لئے معمولی معمولی تکلیفوں کو ہم کچھ نہیں سمجھتے اور ہمارا دل تو یہ چاہتا ہے کہ اگر خدا یہی چاہے اور وہ ہمیں اس امتحان میں بھی ڈالے کہ ہم اس سے نو ہزار گنے زیادہ اس کی راہ میں تکالیف اور اذیتیں اٹھا ئیں تو ہم اٹھائیں گے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ پھر ہماری تکلیف جس نسبت سے بڑھے گی اس سے کہیں زیادہ نسبت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نازل ہوگی۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پچھلے جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے کہا تھا کہ جاپان میں تبلیغ کا کام شرع ہو جانا چاہئے۔ان ملکوں کا بھی حق ہے کہ بیچ اور صداقت اور نور ان تک پہنچے۔اس سلسلہ میں سال کے دوران عملاً جو کام ہو سکا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں نے وکیل التبشیر صاحب کو وہاں بھجوایا تھا کہ وہ وہاں جا کر خود جائزہ لیں وہاں کے حالات معلوم کریں اور رپورٹ کریں۔ان کی جور پورٹ ہے اس کی تفصیل تو وہ غالباً اپنی تقریر میں بیان کریں گے لیکن ایک