خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 260

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۰ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب اپنے حالات اور اپنی تکلیفیں بتا ئیں اور عاجزانہ اس کے حضور جھک کے اس سے کہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم بہت ہی کمزور ہیں۔ایک اہم ذمہ داری غلبہ اسلام کی اور توحید کے قیام کی تو نے ہم پر ڈالی ہے، ہم اپنی طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں اور وسائل اور ذرائع کو جب دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گے لیکن ان تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود جب ہم تیری بشارتیں سنتے اور تیری قدرتوں اور طاقتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ باوجود محض نیستی ہونے کے وہ جس سے ہر ہست نمودار ہوا ، اور وجود پذیر ہوا وہی ہمیں کامیاب کرے گا۔پس تو ہمیں کامیاب کر ، ہمیں ایسے اعمال کی توفیق دے کہ جن سے تو ہم سے راضی ہو جائے۔ایسے افکار اور ایسے منصوبے اور ان منصوبوں پہ ایسے عمل کی توفیق دے جو کام تو نے ہمارے سپر د کیا ہے کہ دنیا کے دل میں تیری تو حید کو گاڑ دیں اور ہر سینہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے معمور کر دیں ہم اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔ہم یہاں اللہ کے ارشادات اور احکام اور ہدایتیں سننے کے لئے اور جو حسین تھا ہر رنگ میں ، جس کی زبان بھی میٹھی تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے شیریں بول سننے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔پس جہاں بھی یہ شریں آواز اُٹھے، وہاں آپ پہنچ جائیں اور غلط قسم کی باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے خدا اور رسول کی باتیں سننے میں اپنا وقت خرچ کریں اور دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ سمجھ بھی دے اور عمل کی طاقت بھی عطا کرے اور پھر اپنے فضل سے وہ نتیجہ بھی نکالے جو ہمارے دلوں کو بھی مسرور کرے اور وہ بھی خوش ہو کہ اس، بندے کے اسی کے بندے بنے شیطان کے بندے نہ بنے۔اب میں کچھ دعائیں جو قرآن کریم ہی کی ہیں اونچی آواز سے پڑھوں گا، آپ آمین کہتے رہیں۔غور سے سنہیں ، اس کے مطابق خدا کے حضور جھکتے رہیں۔پھر ہم اجتماعی دعا کے ساتھ اپنے اس جلسہ کو جس میں ہم محض اللہ کی رضا کے لئے شامل ہوئے اور جسے محض خدا کی رضا کے لئے منعقد کیا جاتا ہے۔افتتاح کریں گے۔اللہ کی برکتیں ، اس کے فضل اور اس کی رحمتیں ہر آن اور ہرلمحہ خصوصاً ان دنوں میں بارش کے قطروں سے بھی زیادہ ہم پر برستی رہیں کہ اس کی رحمت اور