خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 259

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۹ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب جلسہ کے یہ با برکت ایام کوئی دنیاوی میلہ یا کٹھ نہیں افتتاحی تقریب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔عزیز بھائیو اور بہنو! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اس وقت پہلے تو میں مختصراً اپنے بھائیوں کو ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو جلسہ کے یہ با برکت ایام ہم پر ڈالتے ہیں۔یہ کوئی دنیاوی میلہ یا اکٹھ نہیں ہے نہ ہم دنیا کے کسی لالچ کی خاطر یہاں جمع ہوئے ہیں ، نہ دنیا کا کوئی خوف ہمیں یہاں آنے سے روک سکا ہے۔ہم محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہر قسم کی جسمانی اور ذہنی تکلیفیں اور پریشانیاں اٹھاتے ہوئے بھی یہاں اس لئے آئے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ہم سے کچھ ایسی دعائیں کر والے یادوسروں کی دعائیں ہمارے حق میں کچھ اس طرح قبول کر لے کہ ہماری کمزوریاں اس کی مغفرت کی چادر میں ڈھانپی جائیں اور ہماری حقیر کوششوں کے بہترین نتائج نکلیں اور احسن ثواب اس کی طرف سے ہمیں ملے۔ان ایام کا خصوصاً(ویسے تو ساری زندگی کا ہی عموماً ) ہر لحظہ اور ہرلمحہ بڑا قیمتی ہوتا ہے میری مراد ایک مومن کی زندگی سے ہے جو اپنے رب پر ایمان لاتا اور اس یقین پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے جو بھی مخلصانہ سانس میں اس دنیا میں لوں گا وہ مجھے ابدی زندگی کا وارث اُس دنیا میں بنائے گا۔پس ان قیمتی لمحات کو ضائع نہ ہونے دیں۔کوشش کریں کہ ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے والا ہو اور ہمارا کوئی لمحہ بھی شیطان چھین کے لے جانے میں کامیاب نہ ہو۔دعاؤں میں ہمہ وقت مشغول رہیں پیار اور محبت کو، باہمی اخوت کو بڑھائیں آپس میں ملیں، ایک دوسرے کے حالات پوچھیں اور سب سے زیادہ اپنے رب سے ملنے کی کوشش کریں اور