خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 258
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۸ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب وارث بنانے والے ہوں۔ہر لحاظ سے ہمیں اسلام کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانیاں دینے کی توفیق عطا کر اور وہ دن جلد لا کہ دنیا تجھے پہچاننے لگے اور تیری طاقتوں اور قدرتوں سے واقف ہو جائے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے احسان کے نظارے دیکھنے لگے۔اپنے وعدوں کو جو اسلام کے غلبہ سے تعلق رکھتے ہیں ہماری زندگیوں میں پورا کر اور اس دنیا میں جو سب سے بڑی جنت اور جنت ہمیں مل سکتی ہے کہ اسلام کے غلبہ کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں وہ نعمت ہمیں عطا کر اور اس دنیا میں بھی ہم پر اپنا فضل ہی فرما اور نار جہنم سے ہمیں اتنا ہی دور رکھ جتنا شرک سے تو حید کو تو نے دور رکھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی آزادی عطا کرے اور انہیں طاقت بخشے۔چاہے وہ دنیا کے کسی حصہ میں رہتے ہوں اور وہ تمام ملک جہاں اسلام پر ایمان لانے والوں کی اکثریت ہے۔اللہ تعالیٰ ان ملکوں کو طاقت عطا کرے اور ان کو وقار نصیب کرے اور ان کو ہمت عطا کرے اور ان کو قرآن کریم کے انوار سے روشنی لینے کی توفیق عطا کرے اور اسلام کے غلبہ کی مہم میں ان کو حصہ دار بنائے۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے خواہ ہم وہ سوچ سکتے ہوں یا نہیں سوچ سکتے۔ہمیں اپنی برکتوں سے نوازے اور خیر کے سارے سامان ہمارے لئے پیدا کرے اور شر کے ہر پہلو سے ہمیں بچائے رکھے۔جیسا کہ میں نے ابھی کہا تھا۔ان دنوں میں جہاں میں اور آپ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار تھے اور تھوڑا کھانے کو معمولی تکلیف سمجھتے تھے۔کوئی ایسی تکلیف نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ قربانی ( تکلیف) لی۔وہاں میں نظام کی طرف سے جو ایک خرابی پیدا ہوئی۔اس کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ میرے بھائیوں کو اس مقدس اور مبارک جلسہ میں اس قسم کی تکلیف پہنچ رہی ہے۔بڑا ہی دکھ اٹھاتا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے اور مجھے معاف کرے۔اس کے بعد حضور انور نے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔دعا کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آپ دوست واپس اپنے گھروں کو تشریف لے جاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہر آن آپ کے محافظ ہوں اور آسمانی برکتیں آپ پر نازل ہوتی رہیں۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ (رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )