خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 254 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 254

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۴ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب بھروسہ رکھے لفظی معنی تو کسی اور کے ہیں بعض دفعہ انسان انسان پر بھروسہ رکھتا ہے بعض دفعہ کسی جماعت پر کرتا ہے بعض دفعہ اموال پر کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے طبقہ اور برادری پر بھی کرتا ہے۔بہر حال اس کے لغوی معنی ہیں خود کو عاجز پا کر کسی غیر پر بھروسہ کرنا اور اسے یہ سمجھنا کہ وہ میرا کام کر دے گا میرا متولی بن جائے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ عَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (ال عمران: ١٦١) کہ جو مومن ہیں وہ جب بھی خود کو عاجز پائیں اور اور پر توکل کا موقعہ سمجھیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر تو کل نہیں کیا کرتے۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ کے دو حصے ہیں۔ایک یہ کہ غیر اللہ پر توکل نہیں کرنا یعنی اپنے علم پر بھروسہ نہیں رکھنا۔اپنے اموال پر بھروسہ نہیں کرنا۔اپنے جتھے اور برادری پر بھروسہ نہیں کرنا۔اپنی قوت بازو پر بھروسہ نہیں کرنا۔رشوت پر بھروسہ نہیں کرنا۔جھوٹ پر بھروسہ نہیں کرنا۔دھوکہ دہی پر بھروسہ نہیں کرنا کہ اس سے ہمارے کام بن جائیں گے۔تو نہیں کرنے والا ایک حصہ ہے اور دوسرا یہ کہ یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا کارساز ہے اور اتنی قوت اور طاقت رکھتا ہے کہ ہمارے سارے کام کر سکتا ہے۔ہم عاجز ہیں لیکن خدا عاجز نہیں ہے۔دنیا میں دنیا دار جب دنیا والوں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ ایک عاجز پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔جتنا عاجز ایک انسان ہے اتنا ہی عاجز دوسرا انسان ہے لیکن جب خدا کا بندہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر یا اپنی سمجھ اور عقل اور ایمان کے تقاضا سے ہر چیز میں خود کو عاجز سمجھتا اور پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے تو وہ ایک ایسی ذات پر تو کل کرتا ہے جس میں کام کرنے کی ساری طاقتیں ہیں۔تو تو کل کا ایک پہلو یہ ہے کہ غیر اللہ کو اس قابل نہیں سمجھنا کہ وہ ہماری ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی اس قابل نہیں سمجھنا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو واقعی قادر سمجھنا اور واقعی اس بات کا اہل سمجھنا اسے صفات کا مالک سمجھنا کہ وہ ہماری ہر ضرورت کو پورا کر دے گا۔اگر ہمیں مال کی ضرورت ہے تو یہ نہیں سمجھنا کہ دنیا والے ہمیں رزق دے دیں گے لیکن یہ ضرور سمجھنا ہے کہ ہمارا خدا رازق ہے اور ایسے رستوں سے بھی رزق دے دیتا ہے کہ انسان کی عقل میں بھی وہ نہیں ہوتا۔يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (البقرة : ٢٦) اللہ تعالیٰ نے شروع خلافت ہی میں اس عاجز اور بالکل کم مایہ بندے سے یہ وعدہ کیا تھا کہ