خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 246 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 246

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۶ ---- ۱۳/ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب چندہ دے دے گا۔ہمیں اس کی طرف توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے یا یہ کہ بعض جماعتیں یہ کہیں کہ مرکز سے لوگ آ کر اصلاح وارشاد کا کام کریں گے۔ہمیں اس طرف توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ نہیں بلکہ ہر ایک یہ کہے کہ مرکز کے پورا وقت کام کرنے والے مربی جتنا کام کرتے ہیں ہم ان سے زیادہ کام کریں گے۔ان سے آگے بڑھ جائیں گے یہ زیادہ استحقاق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ سے بہتر انعامات پانے کا۔ہم پائیں گے۔ان سے آگے بڑھیں گے یہ نہیں کہ وہ یہ انعامات نہ پائیں وہ بھی پائیں لیکن ہم ان سے زیادہ پائیں گے ہر ایک کے اندر یہ روح ہونی چاہئے اور صرف اس نسل میں نہیں کیونکہ ہمارا کام اس نسل کے کام پر ختم نہیں ہو جاتا۔یہی روح مسابقت اگلی نسل کے اندر پیدا کرنی چاہئے اور اس کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے لئے خدام الاحمدیہ۔انصار اللہ - اطفال الاحمدیہ، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا۔میں جو کہتا ہوں کہ جنت کی طرف روح مسابقت کے ساتھ تیز قدم اٹھاتے ہوئے بڑھتے چلے جاؤ اس سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلِكُلٍ وَجْهَهُ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرة : ۱۴۹) کہ ہر ایک شخص یا قوم کا ایک مطمح نظر ہوتا ہے تم خیرات کے تعلق میں روح مسابقت کو اپنا مطمح نظر بناؤ اور یہاں الخَيْرَاتِ کے ایک معنی احکام قرآن ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا۔وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا (النحل : ۳۱) کہ قرآن کریم کے احکام خیر ہیں یہ ایک لفظ میں قرآن کریم کی تعریف بیان کی گئی ہے۔یعنی ان میں بھلائی ہی بھلائی ہے تو اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرمایا ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ سابقوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمُ وَجَنَّةٍ تواس جنت سے مراد قرانی احکام کی تعمیل ہے۔قرآن کریم پر عمل کرنا بھی جنت ہے جو اس دنیا میں ہمیں عمل کرتے ہوئے ملتی ہے اور آخری دنیا میں وہ ایک اور شکل کو اختیار کر جائے گی۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جہاں ہم قرآن شریف کے مطابق اعتقادات صحیحہ رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں۔وہاں ہمارے صحیح اعتقادات درختوں کا روپ دھار لیں گے اور ہمارے اعمالِ صالحہ جو ہیں وہ نہروں کی شکل میں ظاہر ہوں گے تو عمل صالح ان درختوں کو ملے گا اور اس سے ہمیں ملیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس جنت کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں وہ جنت تمہیں اس دنیا میں مل سکتی ہے اور جنت اُخروی اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں وہاں پہنچا۔نے