خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 244
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۴ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہوئے کبھی ان کی نقل نہ کریں۔پس شیطان کے وسوسوں اور شیطانی دباؤ کے محاذ پر ہم نے مجاہدہ کرنا ہے اور اپنی کوشش کو انتہاء تک پہنچانا ہے۔تیسرا محاذ نفس امارہ کا ہے یعنی انسان دوسرے کی تو نقل نہیں کرتا لیکن خود انسان کا نفس اس کو بُری باتوں یا غفلتوں یا کوتاہیوں کی طرف مائل کرتا ہے۔یہ ایک محاذ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیدار رکھنے کے لئے ہمارے اندر ہی ایک اندرونی جنگ سول وار (Civil War) کا نقشہ کھینچ دیا ہے تا کہ ہم اس وقت تک نہ سوئیں جب تک کہ ہمارا شیطان مسلمان ہو جائے۔جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے اس سے پہلے ایک عظیم جنگ لڑی جاتی ہے اور لڑی جانی چاہئے۔تو یہ تین محاذ ہیں جن پر ہم نے کامیاب مجاہدہ کرنا ہے شرک اور دہریت کے خلاف غلط قسم کے اثرات کے خلاف اور نفس امارہ کی خواہشات کے خلاف اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے تمہیں اتنی بزرگی عطا کی ہے اس لئے تمہارے اوپر میں یہ فرض عائد کرتا ہوں کہ اگر تم اس کی بزرگی کو قائم رکھنا چاہتے ہو تو جہاد کا حق ادا کرو۔اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دو یہ صفت جماعت احمدیہ میں نمایاں طور پر پیدا ہونی چاہئے اور اسے قائم رکھنا چاہئے اگلی نسل میں بھی اس کو پیدا کرنا چاہئے اور ان کو غافل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ایک اور صفت جو ہمارے اندر پیدا ہونی چاہئے وہ روح مسابقت ہے اور اللہ تعالیٰ سورۃ الحدید میں فرماتا ہے۔سَابِقُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الحديد : ٢٢) اس آیت کریمہ میں بڑے ہی لطیف پیرایہ میں روح مسابقت پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ یہاں اپنے انعامات یاد کراتا ہے اور ان کی عظمت ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جو جنت تمہارے لئے تیار کی ہے اس کی قیمت زمین اور آسمانوں کی قیمت سے زیادہ ہے۔یہ زمین اس کے سارے ہیرے اور